عملہ اور انفراسٹرکچر کی کمی، عارضی تقررات کی مہم
حیدرآباد۔ 17 جون (سیاست نیوز) حکومت نے کورونا کے علاج کے لیے گچی بائولی میں تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائینسس اینڈ ریسرچ سنٹر کا قیام عمل میں لایا جہاں 1500 بستروں کی گنجائش فراہم کی گئی ہے لیکن گزشتہ تین ماہ سے یہ مرکز استعمال میں نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹرس اور طبی عملے کی کمی کے نتیجہ میں گچی بائولی کا یہ کووڈ ہاسپٹل باقاعدہ علاج کا آغاز نہیں کرسکا۔ حکومت نے 499 اسٹاف کے تقرر کے لیے اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں پروفیسرس، اسوسی ایٹ پروفیسرس، نرسنگ اسٹاف اور فارماسسٹ شامل ہیں۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کو گچی بائولی ہاسپٹل میں مریضوں کی جانب سے آئی سی یو اور وینٹی لیٹر کی سہولت کے فوری طور پر استعمال کے بارے میں شبہات پائے جاتے ہیں۔ گاندھی ہاسپٹل میں علاج کی بہتر سہولتوں کے باعث زیادہ تر مریض وہیں رجوع کئے جارہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر گچی بائولی میں بہتر انفراسٹرکچر فراہم کیا گیا تو مریضوں کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ اضلاع سے بعض ڈاکٹرس کی خدمات ڈپیوٹیشن پر حاصل کی جارہی ہیں لیکن یہ تعداد ناکافی ہے۔ سینئر عہدیدار نے کہا کہ اگر ڈاکٹر کی عدم موجودگی کے سبب ایک بھی مریض فوت ہوتا ہے تو محکمہ کے لیے مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ حکومت نے دھوم دھام سے گچی بائولی ہاسپٹل کا آغاز کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ کورونا مریضوں کے علاج کے لیے بہتر سہولتوں کا انتظام ہوچکا ہے لیکن گزشتہ تین ماہ سے یہ ہاسپٹل محض شوپیس بن کر رہ گیا۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جب تک بہتر انفراسٹرکچر اور طبی عملہ فراہم نہیں کیا گیا اس وقت تک کورونا مریضوں کا اطمینان بخش علاج ممکن نہیں ہے۔ کنگ کوٹھی ہاسپٹل کے علاوہ نیچر کیور ہاسپٹل اور گورنمنٹ آیورویدک ہاسپٹل ایراگڈا میں انفراسٹرکچر کی کمی کی شکایات ملی ہیں۔