حیدرآباد ۔ 11 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد کے مغربی علاقوں میں رہائشی کرائے کی شرحیں آسمان کو چھو رہی ہیں ۔ کوکاپیٹ ، فینانشل ڈسٹرکٹ ، نانک رام گوڑہ ، گچی باولی ، خواجہ گوڑہ ، بتلاپور اور نلا گنڈلہ جیسے علاقوں میں پریمیم گیٹیڈ کمیونیٹیز میں 2 بی ایچ کے اپارٹمنٹس کے کرائے 70 ہزار روپئے سے ایک لاکھ روپئے ماہانہ ہیں ۔ جب کہ 2 بی ایچ کے فلیٹوں کے کرائے 50 ہزار روپئے تک ہیں ۔ رئیل اسٹیٹ کے ماہرین ان اضافے کا ذمہ دار مکان مالکان کو قرار دیتے ہیں جو زمین کی بڑھتی ہوئی قیمتوں ، اپارٹمنٹس کی قیمتوں میں اضافے اور ہوم لون پر ماہانہ EMIs کی وجہ سے پیدا ہونے والے مالی بوجھ کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ راجا پشپا پروونشی میں 2330 مربع فٹ پر پھیلا ہوا ۔ 3 بی ایچ کے فلیٹ 88 ہزار روپئے ماہانہ کرایہ پر دیا جارہاہے ۔ رئیل اسٹیٹ مارکٹ میں بیورلی ہلز میں ایک مکمل فلیٹ کے 4 بی ایچ کے فلیٹ کا کرایہ ماہانہ 15 لاکھ روپئے ہونے کی بات چل رہی ہے ۔فی الحال مغربی حیدرآباد میں پریمیم ارپاٹمنٹس کی قیمت دو کروڑ سے 3 کروڑ کے درمیان ہے ۔ رئیل اسٹیٹ کے ماہر راج شیکھر نے بتایا کہ جن مالکان نے قرض لے کر ایسے گھر خریدے ہیں انہیں 1.5 لاکھ سے 1.8 لاکھ تک ماہانہ ای ایم آئی ادائیگیوں کا سامنا ہے ۔ ای ایم آئی کے اس بوجھ کو کم کرنے کے لیے مالکان کرایہ کی شرحوں میں نمایاں اضافہ کررہے ہیں ۔ گیٹیڈ کمیونیٹیز میں جدید سہولیات کی دستیابی بھی کرائے کے گھروں کی مانگ کو بڑھا رہی ہے ۔ ماہرین نے نوٹ کیا کہ بہت سے لوگ کس اور جگہ کے معیاری اپارٹمنٹ کے لیے 35 تا 40 ہزار روپئے ادا کرنے کے بجائے ایک گیٹیڈ کمیونٹی میں رہنے کے لیے اضافی 10 ہزار روپئے ادا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ ہائی ٹیک سٹی ، فینانشیل ڈسٹرکٹ اور گچی باولی میں روزگار کے بڑھتے ہوئے مواقع کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اسکولوں ، کارپوریٹ دواخانے ، شاپنگ مالس ، فائیو اسٹار ہوٹلوں اور تفریحی مراکز کی قربت کی وجہ سے آئی ٹی پروفیشنلس ، غیر مقیم ہندوستانیوں ( این آر آئیز ) اور اعلیٰ آمدنی والے خاندان ان علاقوں میر رہنے کی طرف مائل ہیں ۔ پریمیم علاقوں میں رہائشی کو اسٹیٹس سمبل کے طور پر دیکھنے کا بڑھتا ہوا رجحان کرائے کی شرحوں کو بھی متاثر کررہا ہے ۔ آنے والے مہینوں میں اس خطے میں ہزاروں نئے اپارٹمنٹس دستیاب ہونے کی توقع ہے اور یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ اس وقت کرایوں میں کچھ کمی ہو سکتی ہے ۔۔ ش a/b