گھر بیٹھے غذاؤں اور ضروری سامان کے حصول کے رجحان میں اضافہ

   

ہندوستان کی ڈیلیوری مارکٹ پر بلنکٹ کا قبضہ، گزشتہ سال 46 فیصد حصہ داری درج
حیدرآباد 31 مارچ (سیاست نیوز) گھر بیٹھے غذائی اجناس، ہوٹلوں سے مختلف ڈشس اور دیگر سامان کو حاصل کرنے کے رجحان میں اضافہ کے سبب خانگی ڈیلیوری اداروں کی تعداد میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ اِس سے وابستہ ورکرس کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ڈیلیوری سے کمپنی کو جو فائدہ حاصل ہوتا ہے اُس کا مناسب حصہ ورکرس تک نہیں پہونچ پاتا۔ کسی زحمت کے بغیر گھر بیٹھے آرڈر کرنا اور کم وقت میں ڈیلیوری کا رجحان دراصل تن آسانی کی مثال ہے لیکن بڑھتے اِس رجحان کو روکنا بھی ممکن نہیں ہے۔ ڈیلیوری مارکٹ میں بلنکٹ (BLINKIT) کو غلبہ حاصل ہے اور 2025ء کے سروے کے مطابق ڈیلیوری مارکٹ میں بلنکٹ کی حصہ داری 45 تا 46 فیصد درج کی گئی ہے۔ سویگی اور زیپٹو جیسے ادارے بھی ڈیلیوری مارکٹ میں اپنی شناخت رکھتے ہیں لیکن عوام کی ترجیحات کے اعتبار سے بلنکٹ نے بازی مار لی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمپنیوں کی جانب سے وقفے وقفے سے کسٹمرس کو دی جانے والی رعایتوں اور آفرس کے سبب ڈیلیوری کے لئے اداروں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ہندوستان میں گزشتہ سال سویگی نے 25 تا 27 فیصد تجارتی مارکٹ میں اپنی حصہ داری ادا کی جبکہ زیپٹو کی حصہ داری 29 فیصد درج کی گئی۔ شہری علاقوں میں ڈیلیوری اداروں میں سخت مسابقت پائی جاتی ہے اور گھر بیٹھے اشیاء حاصل کرنے کا یہ رجحان اب نیم شہری اور دیہی علاقوں تک بھی بڑھنے لگا ہے۔ شہری علاقوں میں بڑھتی ٹریفک کے سبب طویل مسافت طے کرنے کی زحمت سے بچنے کے لئے عوام ڈیلیوری اداروں کی خدمات کو ترجیح دے رہے ہیں۔1