گھریلو خادمین ملازمتوں سے محروم ، آجرین کا ملازمین سے ترک تعلق

   

لاک ڈاؤن سے معاشی ابتری ، غریب افراد بے یار و مددگار ، حکومت سے امداد کے منتظر
حیدرآباد۔18جون(سیاست نیوز) کورونا وائرس لاک ڈاؤن اور معاشی ابتری نے جہاں ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی اور منظم شعبہ کے ملازمین کو معاشی پریشانیو ں میں مبتلاء کیا ہے وہیں شہر حیدرآباد میں گھریلو ملازمین کو بھی پریشانیوں میں مبتلاء کرنا شروع کردیا ہے ۔ شہر حیدرآباد کے 40 فیصد گھروں میں مختلف کاموں کیلئے گھریلو ملازمین کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں لیکن اب کورونا وائرس کے خوف نے ان کو بھی ملازمتوں سے محروم کرنا شروع کردیا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں گھریلو ملازمین کو ملازمت پر واپس لینے سے گریز کیاجارہا ہے کیونکہ ان کے آجرین کو خدشہ ہے کہ ملازمین پر ہجوم مقامات پر جانے کے علاوہ کئی گھروں میں ملازمت کرتے ہیں اور کئی لوگوں سے ان کی ملاقات ہوتی ہے اسی لئے انہیں کام پر واپس آنے سے روکا جانے لگا ہے۔ غیر منظم شعبہ میں گھروں میں کام کرنے والے ملازمین جیسے کپڑے دھونے کے علاوہ جھاڑوں‘ برتن اور دیگر کاموں کے لئے کام کرنے والوں کو ملازمت سے نکالا جانے لگا ہے جس کے سبب معاشرہ کا یہ غریب طبقہ بھی معاشی مشکلات کا شکار ہورہا ہے۔ گھروں میں کام کرنے والوں کا کہناہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران وہ جن مکانات میں کام کیا کرتے تھے ان کے آجرین کی جانب سے ان کی مدد کی گئی ہے اور انہیں راشن کے علاوہ نقد رقومات بھی دی گئی تھی لیکن اب کورونا وائرس کے خوف نے جو صورتحال پیدا کی ہے اس صورتحال میں ان کے آجرین کی جانب سے گھر آنے سے روکنا شروع کردیا ہے۔ گذشتہ دنوں گوکل چاٹ کے مالک کو کورونا وائرس کی توثیق کے بعد ان کے خاندان نے جو بیان جاری کیا ہے اس میں ان کے خاندان نے بھی یہ جواز پیش کیا تھا کہ شائد کسی گھریلو ملازم کے ذریعہ گوکل چاٹ کے مالک تک کورونا وائرس پہنچا ہے۔
گھریلو ملازمین کی خدمات سے دستبرداری اختیار کرنے والے خاندانوں کا ماننا ہے کہ وہ جب مکمل احتیاط کر رہے ہیں اور گھروں سے نکلنے سے گریز کررہے ہیں ایسی صورت میں وہ ملازمین کی خدمات حاصل کرتے ہیں تو ان کا گھروں میں قید رہنا بے معنی ہوجائے گا اسی لئے وہ اپنے ملازمین کو عارضی طور پر کام پر آنے سے منع کررہے ہیں۔ شہر میں کورونا وائرس کے بڑھتے مریضوں کی تعداد کے بعد شہریوں کی جانب سے اضافی چوکسی اور احتیاط کی جانے لگی ہے جو کہ غریب طبقہ کی آمدنی پر اثر انداز ہونے لگی ہے۔ گھریلو خدمات انجام دینے والوں کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کے پاس وہ کام کرتے تھے ان کی جانب سے منع کئے جانے سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہے کہ حکومت کی جانب سے اس طبقہ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے اور غیر منظم طبقہ کی معاشی ابتری پر ہر گوشہ سے خاموشی اختیار کی جانے لگی ہے ۔