حوصلہ افزائی کے لیے جناب زاہد علی خاں اور جناب عامر علی خاں سے اظہار تشکر
حکومتوں سے نظر انداز کئے جانے کا شکوہ
حیدرآباد ۔ 29 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز) : علم کو جتنا تقسیم کیا جائے جتنا بانٹا جائے اس میں اتنا ہی اضافہ ہوتا ہے اس کے علاوہ علم میں وہ برکت ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں اس کا سرقہ بھی نہیں کیا جاسکتا یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس قوم پر اپنے انعامات کی بارش کرنا چاہتے ہیں تو اسے علم و عمل کی دولت سے مالا مال کردیتے ہیں ۔ چنانچہ ہمارے ملک میں ہماری ملت میں ایسے بے شمار لڑکے لڑکیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی ذہانت عطا کی ہے ۔ ایسی ذہانت کے دیکھنے والے ان بچوں کی ذہانت دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں ۔ ایسے ہی غیر معمولی ذہانت کے حامل بچوں میں گلوبل ٹیکنو ہائی اسکول مہدی پٹنم کی طالبہ رمشہ فردوس بھی شامل ہیں ۔ اس طالبہ کی عمر صرف 11 سال ہے لیکن اس نے 18 ویں ماہ کی عمر میں ہی اپنی ذہانت کے ذریعہ نہ صرف تلنگانہ بلکہ دنیا بھر میں اپنی ایک منفرد شناخت بنالی تھی ۔ آپ کو یاد دلادیں کہ 15 اکٹوبر 2016 کو روزنامہ سیاست میں ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں بتایا گیا تھا کہ دو سال دو ماہ کی عمر میں رمشہ فردوس کو عام معلومات یا جنرل نالج میں اس قدر مہارت حاصل ہوئی تھی کہ وہ 213 ملکوں کے دارالحکومتوں کے نہ صرف نام بتاتی تھی بلکہ ہندوستان کی پہلی خاتون ڈاکٹر ، پہلی خاتون انجینئر ، پہلی خاتون آئی اے ایس ، آئی پی ایس عہدہ دار کے نام بھی فٹافٹ بتا دیتی ہیں ۔ ساتھ ہی سو سے زائد کیمیائی عناصر کے نام ان کا جوہری عدد سے بھی واقف کرواتی ۔ جہاں تک رمشہ فردوس کی خدا داد صلاحیتوں کا سوال ہے ۔ ان صلاحیتوں کو فروغ دینے میں ان کی ماں آصف النساء کا اہم کردار ہے ۔ وہ بی ایڈ ہیں اور گلوبل ٹیکنو ہائی اسکول میں ٹیچر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں ۔ آج رمشہ فردوس اور ان کی والدہ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں سے ملاقات کے لیے دفتر سیاست پہنچے تھے ۔ رمشہ فردوس کی ماں آصف النساء ضلع عادل آباد کے بیلا منڈل کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’’ دہے ‘‘ سے تعلق رکھتی ہیں ۔ انہوں نے اپنی بیٹی رمشہ فردوس پر خصوصی توجہ مرکوز کی ویسے بھی ماں کی گود انسان کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے ۔ رمشہ فردوس نے 11 برس کی چھوٹی سی عمر میں تاحال 175 قومی و بین الاقوامی اعزازات حاصل کئے ہیں ۔ ونڈر بک آف ریکارڈ ، ایشین بک آف ریکارڈ ، براوا بک آف ریکارڈ ، نوبل بک آف ریکارڈ ، انڈیا بک آف ریکارڈ اور کلام بک آف ریکارڈ میں ان کا نام شامل ہے ۔ لیکن افسوس کہ غیر معمولی ذہانت و آئی کیو کی حامل اس لڑکی کی کے سی آر حکومت نے کوئی حوصلہ افزائی نہیں کی ۔ اس کے برعکس ایک اور غیر معمولی ذہانت کی حامل 9 سالہ لڑکی شردی جالکشمی کو کے سی آر نے اپنی حکومت میں حیدرآباد میں گھر دیا تھا ۔ مفت تعلیم فراہم کی تھی ۔ اسی طرح چندرا بابو نائیڈو نے آندھرا پردیش کے 7 سالہ حسین احمد کو مفت تعلیم کے ساتھ ساتھ دس لاکھ روپئے اسکالر شپس دئیے تھے ۔ دوسری طرف ہریانہ میں کوٹالیا پنڈت کو 7 سال کی عمر میں حکومت نے 10 لاکھ روپئے کی اسکالر شپ فراہم کی تھی ۔ رمشہ نے بتایا کہ ایڈیٹر جناب زاہد علی خاں نے سب سے پہلے ان کی حوصلہ افزائی کی ۔ روزنامہ سیاست میں رپورٹ کی اشاعت کے بعد گلوبل ٹیکنو ہائی اسکول مہدی پٹنم کے چیرمین جناب شعیب سبحانی نے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے رمشہ فردوس کی اپنے اسکول میں دسویں جماعت تک مفت تعلیم کا انتظام کیا ۔ یقینا یہ دوسرے تعلیمی اداروں کے لیے ایک تحریک ہے ، ایک سبق ہے ۔ نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں نے رمشہ فردوس اور ان کی ماں آصف النساء کو یقین دلایا کہ حسب روایت روزنامہ سیاست ان کی ضرور مدد کریں گے ۔ رمشہ ’’ رمشہ میموری کوئن ‘‘ نامی یوٹیوب چیانل چلاتی ہیں اور فزیکس و کیمسٹری کلاس بھی لیتی ہیں ۔ رمشہ کے مطابق ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے اسے ایک نیا عزم و حوصلہ عطا کیا اور وہ جناب زاہد علی خاں کی شخصیت سے کافی متاثر ہیں ۔ واضح رہے کہ رمشہ نے امیتابھ بچن سے بھی ملاقات کی اور ان کے پروگرام کون بنے گا کروڑ پتی میں حصہ لینے کی کوشش کی لیکن بہت کم عمر ہونے کے باعث وہ اس پروگرام میں حصہ نہ لے سکی ۔ رمشہ نے بتایا کہ وہ آئی اے ایس آفیسر بننے کی خواہاں ہے ۔۔