نئی دہلی :چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنّا کی قیادت والے سپریم کورٹ کالجیم نے ایک حیرت انگیز فیصلہ کے تحت الٰہ آباد، راجستھان اور کلکتہ سمیت 12 ہائی کورٹس میں ججوں کی تقرری کے لیے ایک بار میں 68 ناموں کی سفارش کر دی ہے۔ ان ہائی کورٹس میں ججوں کی کافی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔جسٹس رمنّا، جسٹس یو یو للت اور جسٹس اے ایم کھانولکر کے تین رکنی کالجیم نے ایک بار پھر تاریخی فیصلہ لیا۔ مارلی وانکنگ میزورم سے پہلی ایسی جیوڈیشیل افسر بن گئی ہیں جن کا نام گواہاٹی ہائی کورٹ میں جج کے عہدہ کے لیے بھیجا گیا ہے۔
وہ درج فہرست قبائل سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے علاوہ 9 دیگر خواتین امیدواروں کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ کالجیم نے 25 اگست اور یکم ستمبر کو اپنی میٹنگوں میں ہائی کورٹس میں ججوں کے طور پر پروموشن کے لیے 112 امیدواروں کے ناموں پر غور کیا تھا۔ ذرائع نے کہا کہ ’’ان میں 68 کے ناموں کو 12 ہائی کورٹس کے لیے منظوری فراہم کی گئی، ان میں 44 بار سے اور 24 جیوڈیشیل سروس سے ہیں۔‘‘