وارڈن معطل، لڑکی کے اسکول جانے سے مسلسل انکار کے بعد پردہ فاش
حیدرآباد۔/8 ستمبر، ( سیاست نیوز) لوگ اپنے بچوں کے روشن مستقبل کیلئے خانگی و کارپوریٹ اقامتی اسکولس وکالجس میں داخلہ دلاکر سالانہ لاکھوں روپئے خرچ کررہے ہیں تاکہ بچے مسابقتی امتحانات میں خود کو منوا سکیں لیکن مٹھی بھر عناصر کی غلط ذہنیت و حرکتوں سے سارا تعلیمی نظام شرمسار ہورہا ہے جس سے طلبہ اور والدین میں تشویش ہے ۔ ایک شرمناک واقعہ حیات نگر کی قدیم روڈ میں ایک خانگی ریسیڈنشیل اسکول میں پیش آیا ۔ طلباء و طالبات کی ضروریات کو پورا کرنے ان کی نگہداشت کرنے والا وارڈن ہی لڑکیوں کا دشمن بن گیا اور انہیں جنسی ہراسانیوں کا شکار بنارہا تھا۔ اس راز کا اس وقت افشاء ہوا جب گھر جانے والی ایک طالبہ دوبارہ اقامتی اسکول جانے راضی نہیں ہوئی ۔ لڑکی سے والدین کی پوچھ تاچھ پر دل دہلادینے والی داستان منظر عام پر آئی ہے۔ اسکول میں نویں جماعت میں زیر تعلیم تین طالبات کو وارڈن چند دنوں سے جنسی ہراسانی کا شکار بنارہا تھا رات میں ساتھ سونے دباؤ ڈال رہا تھا اور اس کے بارے میں ساتھی طالبات یا خاندان کے کسی فرد کو بتانے پر سنگین نتائج کا انتباہ دے رہا تھا۔ کھاتے وقت بھی ساتھ رہنے طالبات کو دھمکارہا تھا۔ ایک ہفتہ تک تینوں لڑکیوں کو ساتھ سونے مجبور کرکے جنسی ہراسانی کی ۔ وارڈن کے ظلم و زیادتی سے بیزار ایک طالبہ چند دن قبل گاؤں چلی گئی ۔ دوبارہ اسکول جانے راضی نہیں ہوئی۔ والدین کی پوچھ تاچھ پر طالبہ نے وارڈن کی شکایت کی۔ چہارشنبہ کو والدین نے طلباء تنظیموں کے ساتھ اسکول پہنچ کر احتجاج کیا ۔ انتظامیہ کی غفلت و لاپرواہی سے وارڈن کے طالبات کو جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا اور وارڈن کے خلاف کارروائی پر زور دیا۔ اسکول کے پرنسپل نے والدین کو بتایا کہ فوری اثر سے وارڈن کو ملازمت سے علحدہ کردیا گیا ۔ پرنسپل نے حیات نگر ایم ای او سے اس کی شکایت کی۔ حیات نگر پولیس نے کیس درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا۔ ن