برسلز: ہالینڈ کے پروٹسٹنٹ چرچ )پی کے این( نے گزشتہ روز اس غلطی کا اعتراف کر لیا کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران وہ یہودیوں کی مدد کرنے کے لیے کوئی خاص اقدام اٹھانے میں ناکام رہا تھا۔ پی کے این کے چیئرمین رینے ڈی ریویئر کا کہنا تھا کہ جرمنی میں ہٹلر کے اقتدار میں آنے سے کہیں پہلے ہی گرجا گھروں کی ایسی سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب ‘پی کے این’ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ چرچ نے، ’’وہ بنیادیں رکھیں جس کے تحت یہود مخالف جذبات اور نفرت پروان چڑھی۔ چرچ کو ان غلطیوں کا اعتراف ہے اور موجودہ دور میں اسے اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا بھی احساس ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’یہود دشمنی خدا کی نافرمانی اورگناہ کے مترادف ہے۔ نازی جرمنی میں یہودیوں کو خوفزدہ اور ہراساں کرنے کے لیے ’کرسٹل ناخٹ‘ یعنی ’شکستہ شیشوں کی شب‘ کے نام سے ایک پروگرام ترتیب دیا گیا تھا اور اسی کی یاد میں ہر سال اس پروگرام کا انعقاد ہوتا ہے۔ یہ واقعہ نو نومبر 1938 کا ہے جب جرمنی اور آسٹریا میں ایک ساتھ یہودیوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان واقعات میں کم از کم 81 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 30 ہزار یہودیوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ 1940 میں جرمنی نے نیدر لینڈ پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد وہاں رہنے والے تقریباً ایک لاکھ 40 ہزاریہودیوں کا قتل کیا گیا۔