l احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے رنگین آبی توپوں کے استعمال سے مسجد کی دیواریں آلودہ
l انیسویں صدی کی کولون مسجد کا پولیس سربراہ کے ساتھ مختصر دورہ
ہانگ کانگ ۔ 21 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ہانگ کانگ کی چین حامی قائد اور شہر کے پولیس سربراہ نے پیر کے روز ایک مسجد کاد ورہ کیا جس کی دیواریں دراصل نیلے رنگ کے پانی کے چھڑکاؤ سے خراب ہوگئی تھیں۔ ہانگ کانگ میں گذشتہ کافی عرصہ سے والی جاری مظاہروں کو روکنے کیلئے پولیس اور سیکوریٹی فورسیس مختلف ہتھکنڈوں کا استعمال کررہی ہے۔ تازہ ترین مظاہروں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے نیلے رنگ کے پانی والی آبی توپوں کا استعمال کیا گیا تھا اور نیلا پانی مسجد کی دیواروں پر بھی پھیل گیا تھا۔ کولون مسجد کے باب الداخلہ اور اس کے قریب واقع دیواروں پر نیلارنگ پھیل جانے سے مقامی مسلمانوں میں ناراضگی پائی جارہی تھی۔ پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے یا ان کی شناخت کیلئے رنگین آبی توپوں کا استعمال کرتی ہے اور اس کے بعد جہاں ان کا استعمال ہوتا ہے وہ پورا علاقہ اس رنگ میں (جس رنگ کا پانی استعمال کیا گیا ہو) رنگ جاتا ہے جس سے گندگی پیدا ہوتی ہے۔ اتوار کے روز بھی ایسا ہی ہوا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے نیلے رنگ کے پانی کی توپیں چھوڑی گئیں جن سے نہ صرف مظاہرین بلکہ وہاں موجود صحافی پوری طرح سے شرابور ہوگئے اور مسجد کی دیواریں بھی خراب ہوگئیں۔ پیر کے روز ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکیٹیو کیری لام اور پولیس سربراہ اسٹیفین لو نے مسجد کا مختصر دورہ کیا۔ اس وقت سیکوریٹی گارڈس کی کثیر تعداد بھی ان کے ساتھ موجود تھی۔ بیس منٹ کے بعد وہ لوگ مسجد سے باہر آئے تاہم میڈیا سے کوئی بات نہیں کی۔ اسی دوران مسجد کے نمائندوں نے میڈیا کو بتایا کہ کیری لام اور اسٹیفین لو نے مسجد میں رنگ والا پانی پھیلانے پر اظہارمعذرت کیا جسے قبول کرلیا گیا۔ یاد رہیکہ کولون مسجد انیسویں صدی کے اواخر میں تعمیر کی گئی تھی جہاں ہندوستان میں برطانوی سامراج سے تعلق رکھنے والے مسلمان فوجی نماز ادا کرتے تھے۔ 1980ء کے دہے میں مسجد کے آہک پاشی کی گئی تھی اور اس کے بعد سے اب تک ہانگ کانگ میں آباد 30,000 مسلمان یہیں نماز ادا کرتے ہیں۔ کیری لام اور اسٹیفین لو نے البتہ مسجد کے دورہ کے بعد اپنے تاثرات کے اظہار کرنے سے انکار کردیا۔ دوسری طرف پولیس کے ایک ذریعہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسٹیفین لو کی جانب سے معذرت خواہی کی توثیق کی ہے تاہم دیگر تفصیلات بعد میں جاری کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ہانگ کانگ میں جاری احتجاجی مظاہرے کافی طویل مدت سے جاری ہیں جہاں مظاہرین پر قابو پانے کیلئے پولیس آبی توپوں (کبھی کبھی رنگین پانی والی) آنسو گیس اور ربر کی گولیوں کا استعمال کرتی ہے۔
