آر ٹی آئی کے تحت جواب دینے سے گریز، درخواستوں کی وزارت داخلہ کو منتقلی
حیدرآباد۔30اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت ہند سپریم کورٹ کی جانب سے ہجومی تشدد کو روکنے کیلئے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری نہیں کر رہی ہے اور ملک بھر میں انسانی حقوق تنظیموں کے ذمہ داروں اور کارکنوں کی جانب سے قانون حق آگہی کے تحت داخل کی جانے والی درخواستوں کے جواب بھی نہیں دیئے جا رہے ہیں بلکہ ان آر ٹی آئی درخواستوں کو مرکزی وزارت داخلہ کو روانہ کیا جانے لگا ہے۔ گذشتہ دنوں منظر عام پر آئی رپورٹس کے مطابق ہجومی تشدد کو روکنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات کے حصول کیلئے داخل کی گئی درخواستوں کے کوئی جواب نہیں دیا گیا بلکہ ان درخواستوں کے جواب ارسال کرنے سے بھی روکا جانے لگا ہے اسی بات کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ملک میں ہجومی تشدد کے واقعات کو روکنے کیلئے مرکزی حکومت کو اقدامات کی ہدایات جاری کرتے ہوئے رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے تھے جن میں سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ حکومت عوام میں ہجومی تشدد میں ملوث ہونے پر درج کئے جانے والے مقدمات کے متعلق شعور اجاگر کرتے ہوئے اس کی سزاء سے مکمل طور پر واقف کروایا جائے۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کئے جانے والے رہنمایانہ خطوط کی اجرائی کے چند ماہ بعد ملک کی بیشتر ریاستوں میں انسانی حقوق کارکنوں کے علاوہ سپریم کورٹ کے وکلاء کی جانب سے ان رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کے سلسلہ میں وزارت داخلہ کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے متعلق آگہی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور اس بات کے متعلق اطلاعات حاصل کرنے کیلئے داخل کی گئی کہ مرکز کی جانب سے شعور بیداری اور ہجومی تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کے انجام کے سلسلہ میں واقف کروانے کیلئے کیا اقدامات کئے گئے !ان افراد کی جانب سے محکمہ تعلقات عامہ کے علاوہ دوردرشن اور آل انڈیا ریڈیو سے بھی تشہیری مواد اور اس کی نشریات کے متعلق تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔