مرضی سے شادی کرنے والوں کو الہ آباد ہائی کورٹ سے راحت
پریاگ راج : الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنی مرضی سے شادی کرنے والے جوڑے کو بڑی راحت دی ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ہر بالغ کو جیون ساتھی چننے کا حق ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ بالغ جوڑوں نے اپنی مرضی سے شادی کر لی ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر شادی شدہ زندگی میں وہ ساتھ رہ رہے ہیں تو یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ عدالت نے درخواست گزار شوہر کے خلاف درج ایف آئی آر کو مجرمانہ عمل کا غلط استعمال قرار دیتے ہوئے اسے مستردکر دیا۔ ریکھا سنگھ اور چار دیگر کی عرضی کو قبول کرتے ہوئے عدالت نے یہ حکم دیا۔اگر شادی شدہ زندگی میں ساتھ رہ رہے ہیں تو یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ عدالت نے درخواست گزار شوہر کے خلاف درج ایف آئی آر کو مجرمانہ عمل کا غلط استعمال قرار دیتے ہوئے اسے رد قرکر دیا۔ ریکھا سنگھ اور چار دیگر کی عرضی کو قبول کرتے ہوئے عدالت نے یہ حکم دیا۔ شکایت کنندہ نے درخواست گزار ریکھا سنگھ کے شوہر اور خاندان کے دو دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ 24 مئی 23 کو شاہجہاں پور کے مدن پور پولیس اسٹیشن میں ان کی بیٹی کے اغوا کا الزام لگاتے ہوئے ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔شکایت کنندہ نے درخواست گزار ریکھا سنگھ کے شوہر اور خاندان کے دو دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ 24 مئی 23 کو شاہجہاں پور کے مدن پور پولیس اسٹیشن میں ان کی بیٹی کے اغوا کا الزام لگاتے ہوئے ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ میاں بیوی اور دو دیگر افراد کی جانب سے عدالت میں چیلنج کیا گیا۔ متاثرہ لڑکی کا بیان ریکارڈ کیا گیا اور اس کا بیان سیل بند لفافے میں بند کیا گیا۔ اس دوران معلوم ہوا کہ متاثرہ لڑکی بالغ ہے اور اس نے درخواست گزار نمبر دو سے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور دونوں پرامن ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے، عدالت نے کہا کہ یہ واقعہ زندگی کے حق اور دو بالغوں کے ساتھی کے انتخاب کی آزادی کے بارے میں ہے۔ ہر بالغ کو حق حاصل ہے کہ وہ جس کے ساتھ چاہے رہنے کا حق رکھتا ہے۔