حیدرآباد۔ 14 اگست (یو این آئی) تلنگانہ کے وزیراعلی کے چندرشیکھرراو 16اگست کو حلقہ اسمبلی حضورآباد کا دورہ کریں گے جہاں وہ دلتوں کی فلاح وبہبود کے لئے نئی اسکیم دلت بندھو کا آغازکریں گے ۔دلت بندھو تلنگانہ حکومت کی ایک نئی اسکیم ہے جسے وہ سماجی انقلاب کے طور پر پیش کر رہی ہے ۔ اس اسکیم کے تحت دلت خاندانوں کو بااختیار بنانے کے لئے دس لاکھ روپے فی خاندان کو راست طور پر رقم پہنچائی جائے گی تاکہ جس کا مقصد ان کو تجارت کرنے کی مناسب سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں کاروباری صلاحیت کو پیداکرنا ہے ۔ یہ اسکیم اگر نافذ ہوجاتی ہے تو یہ ملک کی سب سے بڑی نقد منتقلی کی اسکیم بن جائے گی۔دلتوں کو با اختیار بنانے کے اس پروگرام کا اعلان اسی سال کے شروع میں ریاستی بجٹ کے موقع پر کیا گیا تھا۔ 25 جون کو وزیراعلی کے چندرشیکھرراو نے اسکیم سے متعلق تبادلہ خیال کے لئے بعض منتخب دلت نمائندوں اور رہنماوں کا ایک کل جماعتی اجلاس منعقد کیا تھا۔ اس میٹنگ کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ریاست کے 119 اسمبلی حلقوں سے 11,900 دلت خاندانوں کوفی کس دس لاکھ روپے کی نقد منتقلی کے لیے منتخب کیا جائے گا۔اس رقم کی منتقلی میں کسی بھی قسم کی ضمانت کی ضرورت نہیں ہوگی اور یہ کسی بینک گیارنٹی کے بغیر جاری کی جائے گی۔ ابتدائی طور پر اس اسکیم کے تحت 1200 کروڑ روپے کی منظوری دے دی گئی ہے ۔10مئی 2018کو اسی حضورآباد اسمبلی حلقہ سے وزیراعلی نے رعیتوبندھو اسکیم متعارف کی تھی جو کافی کامیاب رہی۔وزیراعلی کے جلسہ کو کامیاب بنانے کے لئے کریم نگر ضلع کے ٹی آرایس لیڈران کافی سرگرم ہوگئے ہیں۔یہ جلسہ 20ایکڑ اراضی پر منعقد کیاجارہا ہے ۔وزیراعلی اس موقع پر اس اسکیم کے بعض استفادہ کنندگان میں چیکس تقسیم کریں گے جبکہ مابقی افراد میں چیکس کی تقسیم کے لئے کاونٹرلگایاجائے گا۔عہدیدار اس کاونٹر میں چیکس کی تقسیم کاکام کریں گے ۔ان کے دورہ اور جلسہ کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ حلقہ حضورآباد کا جلد ہی ضمنی انتخاب ہونے والا ہے جس کی نمائندگی قبل ازیں ای راجندر کیاکرتے تھے ۔راجندر کو اراضیات پر غیرمجاز قبضوں کے الزامات پر ریاستی کابینہ سے برطرف کردیاگیا تھا جس کے بعد انہوں نے حضورآباد اسمبلی حلقہ سے استعفیٰ پیش کردیا اوربی جے پی میں شمولیت اختیارکرلی۔