گورنر کے بغیر اسمبلی کا اجلاس کس طرح ممکن؟ محبوب نگر میں بی جے پی کا اجلاس، بنڈی سنجئے کا خطاب
محبوب نگر۔ 24؍جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔ مستقر محبوب نگر پر ریاستی بی جے پی کے صدر بنڈی سنجئے کی صدارت میں بی جے پی ایگزیکٹیو میٹنگ کے دوسرے دن مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کی قیادت میں ملک میں جہاں بھی انتخابات ہورہے ہیں، وہاں بی جے پی کو کامیابی حاصل ہورہی ہے۔ تلنگانہ میں ’پرجا سنگراما یاترا‘ کے دوران ہم نے واضح طور پر محسوس کیا کہ ریاست کے عوام چیف منسٹر کے سی آر سے عاجز آچکے ہیں اور ریاست میں متبادل حکومت کے خواہاں ہیں۔ انھوں نے ٹی آر ایس پر الزام لگایا کہ وہ عوامی اعتماد سے محروم ہوچکی ہے اور اپوزیشن کے خاتمہ کے لئے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔ تلنگانہ میں خاندانی حکومت اور ڈکٹیٹرشپ ہے جب کہ عوام راما راجیم چاہتے ہیں۔ انھوں نے دلت بندھو اسکیم پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ اس اسکیم سے صرف بی آر ایس کے قائدین اور کارکن ہی فائدہ اٹھارہے ہیں۔ تلنگانہ کے تمام طبقات بی آر ایس سے متنفر ہوچکے ہیں۔ کے سی آر جب بھی انتخابات آتے ہیں، 50 ہزار نوٹیفکیشن کی اجرائی کا وعدہ کرتے ہیں، لیکن اس کا کوئی نوٹیفکیشن نہیں آتا۔ ریاست کا خزانہ ٹی آر ایس حکومت سے قبل بھرا ہوا تھا، لیکن آج ریاست پر 50 لاکھ کروڑ روپئے کا قرض ہے۔ کالیشورم پراجکٹ پر لاکھوں کروڑ روپئے کا قرض ہے۔ انھوں نے کہا کہ انتخابات کے پیش نظر چیف منسٹر اسمبلی کا ایسا دِلفریب بجٹ تیار کرتے ہیں جس پر عمل ناممکن ہے اور عوام کو بے وقوف بناتے ہیں۔ انھوں نے چیف منسٹر سے سوال کیا کہ کس طرح اسمبلی کا اجلاس گورنر کے بغیر منعقد کیا جاسکتا ہے؟ انھوں نے تعجب سے کہا کہ ریاست کی ترقی کی بات کرنے والے ملک کی ترقی کے لئے کس طرح منصوبے بنارہے ہیں۔ اجلاس میں بی جے پی قائدین اور کارکن بڑی تعداد میں موجود تھے۔