ہندوستان کو طاقتور بنانا چاہتے ہیں، آزادی کا امرت مہوتسوشروع ، راجناتھ کا خطاب
نئی دہلی : وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آج کہا کہ حکومت کا ایک مستحکم ہندوستان کی تعمیر کا خواب ہے جو کسی پر حملہ نہیں کرنا چاہتا لیکن کسی بھی قسم کے چیلنج کا مناسب جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے ۔ سنگھ نے یہ بات جمعہ کو ‘آزادی کا امرت مہوتسو’ منانے کے لیے ورچول طریقے سے ملک گیر پروگرام شروع کرنے کے لیے منعقدہ پروگرام میں کہی۔ یہ تہوار پورے ملک میں آزادی کے 75 سال مکمل ہونے پر منایا جائے گا۔ انہوں نے بتایاکہ تاریخ بنتی دیکھنا ایک اعزاز کی بات ہے ۔ تاریخ کا حصہ بننا اس سے بھی بڑا اعزاز ہے ۔ لیکن یہ بڑی خوش قسمتی کی بات ہے کہ ہم نہ صرف آزادی کی ‘امرت مہوتسو’ کی تاریخ بنتے ہوئے دیکھ رہے ہیں بلکہ اس کا حصہ بھی بن رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہم ہندوستان کو طاقتور بنانا چاہتے ہیں۔ ایک ہندوستان جو دوسرے پر حملہ نہیں کرنا چاہتا لیکن ہر چیلنج کا مناسب جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے ۔ آنے والے وقتوں میں ہم ایک اور مضبوط ہندوستان کی تعمیر کریں گے ۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں شروع کیے جانے والے ان پروگراموں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ نہ صرف اہل وطن بلکہ پانی ، زمین ، پہاڑ اور سطح مرتفع بھی ہم وطنوں کے ساتھ ‘آزادی کا امرت مہوتسو’ منا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ ‘‘ امرت مہوتسو’’ کی روح جو ہم آج منا رہے ہیں یا میں یہ کہوں کہ آزادی ، خودمختاری اور امرت کی روح ہندوستان کے لیے کوئی نیا یا جدید جذبہ نہیں ہے ۔ میں کیپٹن وکرم بترا کا ذکر کرنا چاہوں گا جو موت کو سامنے دیکھ کر بھی کہتے ہیں ، ‘یہ دل مانگے مور’۔ یہ کیسا احساس ہے ؟ میں اپنی طرف سے ان لافانی بیٹوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی قوم کے لیے سب کچھ قربان کردیا۔ اس موقع پر فوج کی ایک کوہ پیما ٹیم کے بھیجنے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے ہندوستانی ہیروز ، انقلابیوں کو پہاڑوں میں پناہ لینی پڑتی تھی ، آج اسی پہاڑوں پر کوہ پیمائی مہم چلائی جا رہی ہے ۔ 75 سال پہلے آزادی کے جنگجوؤں کو جزیروں پر سزا کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ آج اسی جزیروں پر سینکڑوں سے زیادہ ترنگے لہرا کر آزادی منائی جا رہی ہے۔ سنگھ نے بتایا کہ جب وزیراعظم نریندر مودی نے تاریخی ڈانڈی مارچ کی سالگرہ کے موقع پر ‘امرت مہوتسو’ کا آغاز کیا تو انہوں نے قوم کے سامنے امرت مہوتسو کی تصویر کھینچی تھی جس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ یہ کیسا ہونا چاہیے ۔ انہوں نے بتایاکہ اگر میں اپنے ملک کی عسکری روایت کے ساتھ ساتھ جدوجہد آزادی کی بات کرتا ہوں تو آزادی کی جدوجہد جو ایک قابل فخر تاریخ ہے ۔ ہماری فوجی روایت انگریزوں کی آمد سے کئی سو سال پہلے کی ہے ۔