کسانوں کو ملنے والی تائید سے حکومت خوفزدہ ۔ سرکاری کارروائیاں جمہوریت پر حملہ ‘ متحدہ کسان مورچہ
نئی دہلی ۔ متحدہ کسان مورچہ نے آج اعلان کیا کہ جب تک پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے ہراسانی کا سلسلہ رک نہیں جاتا اور محروس کسانوں کو رہا نہیں کیا جاتا اس وقت تک حکومت کے ساتھ کوئی رسمی بات چیت نہیں ہوگی ۔ مورچہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے رکاوٹوں میں اضافہ کردیا گیا ہے ۔ کھڈ کھودے جارہے ہیں ‘ سڑکوں پر کیل ٹھونکے جا رہے ہیں ‘ خاردار تارلگائے جا رہے ہیں ‘ داخلی سڑکوں کو بند کیا جا رہاہ ے ‘ انٹرنیٹ کو مسدود کردیا گیا ہے اور بی جے پی ۔ آر ایس ایس ورکرس کے ذریعہ احتجاج کروایا جا رہا ہے ۔ یہ سب کچھ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے حملے ہیں ۔ حکومت کی پولیس اور اس کا انتظامیہ کسانوں کے خلاف یہ سارے ڈرامے کر رہا ہے ۔ کسان تنظیموں پر مشتمل اس اتحاد نے جو مرکزی زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہا ہے انٹرنیٹ خدمات کی مسدودی اور کسان تحریک سے متعلق ٹوئیٹر اکاونٹس کو بند کردینے کی کارروائی کو جمہوریت پر راست حملہ قرار دیا ہے ۔ ٹوئیٹر نے کل ہی کارروائی کرتے ہوئے کئی اکاونٹس بند کردئے تھے جبکہ حکومت نے ٹوئیٹر سے کہا تھا کہ کم از کم 250 اکاونٹس کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے فرضی اور اشتعال انگیز مواد پیش کئے ہیں۔ کسان مورچہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ مختلف ریاستوں سے احتجاجی کسانوں کو جو مدد اور حمایت مل رہی ہے اس سے حکومت خوفزدہ ہے ۔ پنجاب ‘ ہریانہ اور اترپردیش کے کسان نئے زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدات پر گذشتہ دو ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ کسان مورچہ نے اپنے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ اس وقت تک کوئی بات چیت نہیں کی جساکتی جب تک کسان تحریک کو انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے مختلف طریقوں سے ہراساں کرنے کا سلسلہ بند نہیں ہوجاتا ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اب تک حکومت سے بھی رسمی بات چیت کا کوئی دعوت نامہ نہیں ملا ہے ۔ موررچہ نے واضح کیا کہ جب تک محروس کسانوں کو ‘ جو پولیس کی غیر قانونی حراست میں ہیں ‘ رہا نہیں کیا جاتا کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی ۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے ہفتے کو کل جماعتی اجلاس میں کہا کہ حکومت نے 18 ماہ کیلئے ان قوانین پر عمل آوری روک دینے کی جو پیشکش کی تھی وہ اب بھی برقرار ہے تاہم کسان مورچہ کا کہنا ہے کہ ان قوانین کو منسوخ کیا جانا چاہئے ۔ کسانوں کے ساتھ حکومت کی بات چیت 22 جنوری کو اس وقت تعطل کا شکار ہوگئی تھی جب کسان اپنے اس مطالبہ پر ہی مصر رہے کہ مرکز نے جو تین نئے زرعی قوانین بنائے ہیں ان کو پوری طرح سے منسوخ کیا جانا چاہئے ۔