ہریانہ میں دو برادریوں کے درمیان جھڑپ ’بدقسمتی‘:راؤ اندرجیت

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی: ہریانہ کے گروگرام سے ممبر پارلیمنٹ اور شماریات و پروگرام کے نفاذ کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) راؤ اندرجیت سنگھ نے منگل کو کہا کہ ہریانہ کے نوح ضلع میں پیر کو ہونے والا فرقہ وارانہ تشدد بدقسمتی ہے ، تاہم صورتحال اب کنٹرول میں ہے ۔ پارلیمنٹ کمپلیکس میں ’یواین آئی‘کو بتایا کہ آج نوح ضلع میں حالات معمول پر ہیں اور وہاں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے اور اب امن قائم کرنا ضروری ہے نیز ریاستی اور مرکزی حکومتیں اس محاذ پر کام کر رہی ہیں۔ جب ان سے وزارت داخلہ سے تعاون کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا، “وزارت داخلہ بہت فعال رہی ہے اور اس نے ریاستی حکومت کو خطے میں امن برقرار رکھنے کیلئے ضروری نیم فوجی دستے فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہریانہ حکومت نے نوح ضلع میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے مرکز سے ایک ہفتے کیلئے ریپڈ ایکشن فورس کی 20 کمپنیاں طلب کی ہیں۔ اگر حالات قابو سے باہر ہوتے ہیں تو ہم ریاست کو دفاعی دستے فراہم کرنے کیلئے بھی تیار ہوں گے ۔دوسری طرف ہریانہ کے وزیر داخلہ انل وج نے آج کہا کہ نوح ضلع میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے ۔ پولیس نے تشدد کے سلسلے میں تقریباً 20 ایف آئی آر درج کی ہیں اور کچھ لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔