ہریانہ میں سرکاری اسکولوں کی حالت خراب: عآپ

   

Ferty9 Clinic

چنڈی گڑھ: ہریانہ پردیش عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن سشیل گپتا نے ریاست میں گرتی ہوئی تعلیمی سطح اور اسکولوں کی بدتر حالت کے لیے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر پر نشانہ لگاتے ہوئے ان پر ریاست کو پیچھے لے جانے کا الزام لگایا۔ گپتا نے ہفتہ کو یہاں جاری ایک بیان میں ریاست کے سرکاری اسکولوں کی حالت کے بارے میں ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ان میں سے 1585 میں بیت الخلاء نہیں ہیں۔ ان اسکولوں میں سے 538 لڑکیوں کے اسکول ہیں۔ اس کے علاوہ 131 سرکاری اسکولوں میں پینے کے پانی کی سہولت اور 236 اسکولوں میں بجلی کا کنکشن نہیں ہے۔ یہاں تک کہ 321 سرکاری اسکولوں میں چاردیواری نہیں ہے ۔ رپورٹس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کے لیے 8240 اضافی کلاس رومز اور 3630 دیگر کمروں (بشمول سائنس لیب، کمپیوٹر روم، اسٹاف روم وغیرہ) کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور دہلی میں اے اے پی کی حکومت ہے ۔ پنجاب میں گزشتہ جمعہ کو پنجاب بورڈ نے دسویں کے امتحانی نتائج کا اعلان کیا اور نتیجہ 97.54 فیصد رہا۔ اعلان کردہ امتحانی نتائج کے مطابق پنجاب کے سرکاری اسکول ٹاپ پر رپے جن کا رزلٹ 97.76 رہا۔ اسی طرح دہلی میں آپ کی حکومت میں 10ویں میں 99.49 فیصد بچے اور 12ویں میں 99.25 فیصد بچے پاس ہوئے ۔ وہیں اس بار ہریانہ بورڈ کا مجموعی نتیجہ 65 فیصد رہا ہے ۔ گزشتہ سال کے مقابلے امتحان کے نتائج میں تقریباً آٹھ فیصد کمی آئی ہے ۔ اس سال ہریانہ میں 60 ہزار سے زیادہ بچے فیل ہوئے ہیں۔ یہ امتحانی نتیجہ تعلیم کے تئیں کھٹر حکومت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے ۔