ہزاروں افراد کا بنگلہ دیش پولیس کی فائرنگ کیخلاف احتجاج

   

Ferty9 Clinic

اہانت رسولؐ پر مبنی تبصرہ فیس بک پر شائع کرنے کا شاخسانہ
ڈھاکہ ۔ 21 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ہزاروں افراد نے بنگلہ دیش میں ملک گیر سطح پر پیر کے دن پولیس کے خلاف احتجاج کیا کیونکہ کم از کم 4 افراد پولیس عہدیداروں کی ایک ہجوم پر فائرنگ کے دوران ہلاک ہوگئے اور ایک شخص تاحال مذہبی فسادات میں شدید زخمی ہوا۔ تقریباً 20 ہزار مسلمان ایک جلوس کی شکل میں ایک نوجوان ہندو شخص کو جزیرہ بھولا میں سزائے موت دینے کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ اس نے مبینہ طور پر فیس بک پر پیغام شائع کیا تھا جو پیغمبراسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی تھا۔ پولیس کا کہنا ہیکہ اس نے عہدیداروں پر سنگباری کے بعد فائرنگ کا آغاز کیا۔ 4 افراد ہلاک اور تقریباً 50 زخمی ہوگئے جن میں 7 کی حالت جو ہاسپٹل میں زیرعلاج ہیں، نازک بتائی جاتی ہے۔ عوام کے ایک ہجوم نے آن لائن ان تبصروں کے شائع کئے جانے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ فوج کیلئے بنگلہ دیش میں یہ تبصرے سردرد بن گئے ہیں کیونکہ یہاں کی آبادی میں 90 فیصد مسلمان ہے۔ ہلاکتوں سے اتوار رات دیر گئے احتجاجی مظاہروں کا تازہ سلسلہ جاری ہوا جو پیر کے دن بھی جاری رہا۔ کئی شہروں میں ہزاروں مسلمانوں نے احتجاجی جلوس نکالا اور نعرہ بازی کی۔ وہ ان پولیس عہدیداروں کے خلاف جو اس فائرنگ میں ملوث تھے، مقدمہ چلانے کا مطالبہ کررہے تھے۔ پولیس نے غیرقانونی اور غیردستوری طور پر فائرنگ کا آغاز کیا۔ 22 سالہ دینی مدرسہ کے طالب علم محمود الحسن نے ایک جلوس میں جو سزائے موت کے خلاف ڈھاکہ میں نکالا گیا تھا، تقریر کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا۔ اس نے کہا کہ یہ ماورائے عدالت ہلاکتیں ہیں۔ ہم انصاف چاہتے ہیں۔ ہندو شخص جس نے اپنے فیس بک کھاتے میں اصل پیغامات کی میزبانی کی تھی اور جس کو جزیرہ بھولا میں مذہبی کشیدگی پھیلانے کے الزام میں سزائے موت دے دی گئی، وزیراعظم بنگلہ دیش شیخ حسینہ نے اتوار کے دن امن کی اپیل کی اور کہا کہ اس شخص کے فیس بک کھاتے کو ایک مسلم شخص نے ہیک کرلیا تھا اور جھوٹی باتیں پھیلانے کیلئے استعمال کیا تھا۔ اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ہزاروں احتجاجیوں نے بھولا احتجاج میں حصہ لیا تھا جس کی مقامی پولیس سربراہ انعام الحق کے بموجب تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ پولیس عہدیدار نے بھی اپنی جان بچانے کیلئے فائرنگ کی تھی جبکہ احتجاجی تشدد پر اتر آئے تھے۔ تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ یہ پہلی بار نہیں ہے جبکہ فیس بک پر اس قسم کے تبصروں سے بڑے پیمانے پر غربت زدہ بنگلہ دیش میں مذہبی تشدد کا واقعہ پیش آیا ہے۔ مبینہ طور پر فیس بک پر شائع تبصرہ میں 2016ء میں بھی اسلام کے مقدس ترین مقامات کا مذاق اڑایا گیا تھا۔ یہ واقعہ 2016ء میں بنگلہ دیش کے مشرقی قصبہ میں پیش آیا تھا۔ چنانچہ مندروں پر مسلمانوں نے حملے کئے تھے۔ 2012ء میں بھی مسلم افراد کے ہجوموں نے بدھ مت کی خانقاہوں، قیامگاہوں اور دکانات کو ساحلی علاقہ کاکس بازار میں نذرآتش کردیا تھا جبکہ قرآن مجید کی ایک تصویر جس کو مبینہ طور پر توہین سمجھا گیا ایک نوجوان بدھ مت کے پیروؤں نے آن لائن شائع کیا تھا چنانچہ مذہبی کشیدگی مسلم غالب آبادی والے ملک بنگلہ دیش میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔