کابل : افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کے دوران امریکی حکومت، اداروں اور ذرائع ابلاغ کی مدد کرنے والے وہ ہزاروں افغان باشندے، جنہیں ایک پروگرام کے تحت امریکہ میں بسایا جانا تھا، ابھی تک اپنی دوبارہ آبادکاری کے منتظر ہیں۔ افغانستان سے انخلا کے وقت انہیں امریکہ میں لانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ انہیں طالبان کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کے خطرات لاحق تھے۔ خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی ایک رپورٹ میں ایک افغان صحافی اور خواتین کے حقوق کی علمبردار شکریہ صدیقی کی کہانی بیان کی ہے کہ انہیں اپنے خاندان کے ساتھ افغانستان سے نکلنے کے لیے کن مشکلات سے گزرنا پڑا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کو افغانستان سے نکلے ہوئے دو سال ہو رہے ہیں لیکن شکریہ صدیقی اور ہزاروں دوسرے افغان باشندے ابھی تک امریکہ میں اپنی دوبارہ آباد کاری کے منتظر ہیں۔ اگرچہ حال ہی میں اس سلسلے میں کچھ پیش رفت دیکھنے میں آ ئی ہے، لیکن افغان باشندوں کے لیے امریکی ویزے کے اجراء کا عمل سست ہے اور اب تک ان کی ایک چھوٹی سی تعداد کی ہی دوبارہ آباد کاری ہو سکی ہے۔ امریکہ نے 2001 میں افغانستان پر حملہ کے بعد وہاں اپنے دو عشروں کے قیام کے دوران، دہشت گردوں سے لڑنے اور اس پس ماندہ ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے امریکی حکومت اور فوج کی مدد کرنے والے افغان باشندوں پر انحصار کیا تھا۔