ہل فورٹ تحفظ کے اقدامات پر حکومت سے رپورٹ طلب

   

نگرانی کمیٹی کا آج اجلاس ،قطعی فیصلہ متوقع

حیدرآباد۔13۔ستمبر(سیاست نیوز) ہل فور ٹ پیالس معروف بہ رٹز ہوٹل کے تحفظ کے سلسلہ میں تلنگانہ ہائی کورٹ میں جاری مقدمہ کے دوران چیف جسٹس آلوک ارادھے اور جسٹس این وی شرون کمار نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اندرون 4ہفتہ ہائی کورٹ کو اس بات سے واقف کروائیں کہ حکومت نے ہل فورٹ پیالس کے تحفظ کے سلسلہ میں کیا اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔جسٹس آلوک ارادھے نے مفاد عامہ کے تحت داخل کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران کہا کہ جب حکومت کی جانب سے اس عمارت کو تہذیبی ورثہ میں شامل کیا گیا ہے تو اس کے تحفظ کے لئے کیا اقدامات کئے جا رہے ہیں!عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اندرون 4ہفتہ اپنے فیصلہ سے عدالت کو واقف کروائے۔ سابق میں حکومت کی جانب سے نیشنل اکیڈیمی آف کنسٹرکشن کے علاوہ آئی آئی ٹی ۔ حیدرآباد اور این آئی ٹی ۔ورنگل کے پروفیسرس پر مشتمل ٹیم نے ہل فورٹ پیالس کا معائنہ کرتے ہوئے اسے مخدوش قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس عمارت کی فوری تزئین نو یا تحفظ کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں اس عمارت کو شدید نقصان کا خدشہ ہے۔ اس رپورٹ کے بعد تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت کو جاری کی گئی ہدایات میں اس بات کی تاکید کی تھی کہ وہ ہل فوٹ پیالس رٹز ہوٹل کے تحفظ کے سلسلہ میں فوری اقدامات کرتے ہوئے اس تہذیبی ورثہ کے تحفظ کے لئے کئے جانے والے فیصلہ سے عدالت کو واقف کروائے۔ خصوصی کونسل برائے حکومت مسٹر ہریندر پرشاد نے مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالت کو اس بات سے واقف کروایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کمشنر مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد کی نگرانی میں ایک کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہے اور اس کمیٹی کا آئندہ اجلاس 14 ستمبر کو منعقد ہونے جا رہاہے ۔انہو ںنے تلنگانہ ہائی کورٹ کو اس بات سے واقف کروایا کہ 14 ستمبر کو منعقد ہونے والے اجلاس کے دوران کوئی قطعی فیصلہ کرلیا جائے گا اور اس فیصلہ سے حکومت اور عدالت کو واقف کروانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ہل فورٹ پیالس کو نظرانداز کرنے اور اسے منہدم ہونے کے لئے چھوڑ دیئے جانے کے خلاف تلنگانہ ہائی کورٹ میں تہذیبی ورثہ کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے والوں کی جانب سے ایک درخواست مفاد عامہ داخل کرتے ہوئے اس عمارت کے تحفظ کو یقینی بنانے کی خواہش کی گئی تھی۔