ایس آئی آر دراصل ’سافٹ ویئر انٹینسیو رِگنگ‘ ہے، راجیہ سبھا ایم پی ڈیرک اوبرائن کی پریس کانفرنس
نئی دہلی، 20 جنوری (یو این آئی) ترنمول کانگریس نے ایس آئی آر کو ’’سافٹ ویئر انٹینسیو رِگنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای ایس آئی) میٹنگ کی تحریری نقل جاری کرے اور ایس آئی آر میں شفافیت لائے ۔ نئی دہلی میں پارٹی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ٹی ایم سی کے راجیہ سبھا ایم پی ڈیرک اوبرائن نے کہاکہ ہم ایس آئی آر کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم ایس آئی آر چاہتے ہیں، لیکن یہ انسانی ہونا چاہیے اور اس میں شفافیت ہونی چاہیے ۔انہوں نے سوال کیاکہ ممتا بنرجی، وزیر اعلیٰ بنگال اور ابھیشیک بنرجی، آل انڈیا جنرل سکریٹری، نے بھی یہی مطالبہ کیا ہے ۔ ایس آئی آر عوام پر بوجھ نہیں ہونا چاہیے ۔ عوام پر ایس آئی آر کا بوجھ کیوں ڈالا گیا ہے ؟ ترنمول کانگریس کے 10 رکنی وفد نے 28 نومبر کو اس مسئلے پر الیکشن کمیشن کے فل بنچ سے ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد سے حکمراں پارٹی مسلسل الیکشن کمیشن سے میٹنگ کی نقل جاری کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے ۔ ٹی ایم سی نے دعویٰ کیا کہ ای سی نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر مشق سے متعلق پانچ سوالات میں سے کسی کا جواب نہیں دیا، جن میں ’ایس آئی آر سے متعلق اموات‘ بھی شامل ہیں۔ پارٹی، جو اپنی تیسری مدت حکومت کر رہی ہے ، نے ایک بار پھر اس مسئلے کو اجاگر کیا۔ اوبرائن نے کہاکہ ترنمول کانگریس نے نومبر میں پہلی بار الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا، اس کو 51 دن ہو گئے ہیں۔ میٹنگ کی نقل کہاں ہے ؟ نقل فوراً جاری کی جانی چاہیے ۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہاکہ الیکشن کمیشن واٹس ایپ کا ماہر ہے ، اگر چاہے تو انہیں واٹس ایپ پر جاری کر سکتا ہے ۔ اگر وہ جاری نہیں کرتے تو ہم خود نقل شائع کریں گے ۔ پارٹی نے ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (ایم سی سی) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات کے دوران اخلاقی رویے ، انصاف اور شفافیت کے اصولوں کو یقینی بناتا ہے اور الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ اسے سب پر نافذ کرے ۔ کمیشن نے پہلے کہا تھا کہ اندراج کے مرحلے کے اختتام پر 1.36 کروڑ ووٹروں کو منطقی تضاد کے زمرے میں شناخت کیا گیا تھا۔ بعد میں سماعت کے بعد یہ تعداد کم ہو کر 91.46 لاکھ رہ گئی۔ پیر کو سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو منطقی تضادات کی فہرست شائع کرنے کی ہدایت دی۔
وہیں، بی جے پی نے بنگال کو نشانہ بناتے ہوئے پیر کو کور کمیٹی کی میٹنگ کی تاکہ انتخابی حکمتِ عملی طے کی جا سکے ۔ پارٹی اجلاس میں بنیادی توجہ خواتین، نوجوانوں اور بے روزگاری پر مرکوز رہی۔