نئی دہلی: وقف بل پر جاری بیان بازی کے درمیان جے ڈی یو نے کہا ہے کہ اس نے اس بل کو لے کر حکومت کو اہم تجاویز دی ہیں۔ ساتھ ہی ہماری تجاویز کو بھی ترجیح دی گئی ہے۔ تاہم ابھی تک اس بل کو سرکولیشن نہیں کیا گیا ہے اور جے ڈی یو بل کو دیکھنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرے گی۔ذرائع کے مطابق جے ڈی یو نے حکومت سے کہا ہے کہ نئے قانون کو سابقہ اثر سے لاگو نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس کا مطلب ہے کہ موجودہ پرانی مسجد، درگاہ یا دیگر مسلم مذہبی مقامات کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہونی چاہیے۔ وقف ایکٹ میں اس کے لیے واضح انتظام ہونا چاہیے-جے پی سی کی تجویز کردہ 14 اہم ترامیم میں بھی ان کو شامل کیا گیا ہے۔ جے پی سی کی تجویز کردہ ترامیم کی بنیاد پر، کابینہ نے ترمیم شدہ بل کو منظوری دے دی ہے، جس میں یہ بھی اہم ترمیم ہے کہ اسے سابقہ اثر کے ساتھ لاگو نہیں کیا جائے گااسی طرح ریاستی وقف بورڈ میں کلکٹر کے بجائے ثالثی کا اختیار کسی مجاز سینئر سرکاری افسر کو دینے کیلئے ایک ترمیم تجویز کی گئی ہے جسے کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔یعنی ایک ترمیم تجویز کی گئی ہے جس میں یہ فیصلہ کرنے کے لیے کسی افسر کی تقرری کا حق دیا گیا ہے کہ کوئی جائیداد وقف جائیداد ہے یا نہیں ریاستی حکومتوں کو کلکٹر کے بجائے۔