ہم جنس شادی پیچیدہ مسئلہ، اسے پارلیمنٹ پر چھوڑدیں: مرکزی حکومت

   

نئی دہلی:ہم جنس شادیوں کو قانونی قرار دینے پر مرکز نے بدھ کو سپریم کورٹ کے سامنے ایک بار پھر دلیل دی کہ اس معاملے کی پیچیدگیوں اور اس کے سماجی اثرات کو دیکھتے ہوئے اسے پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا جانا چاہیے کہ وہ کوئی راستہ نکالے۔چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں پانچ ججوں کی آئینی بنچ کے سامنے پانچویں دن مرکز کا موقف پیش کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے پوچھا کہ قانون ان لوگوں کو کیسے پہچانے گا جو جنس کی شناخت سے انکار کرتے ہیں۔ مہتا نے یہ عرضیاں سپریو عرف سپریا چکرورتی اور دیگر کی طرف سے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران کہی۔