ہم روس پر پابندیاں نہیں لگائیں گے : ترکی

   

انقرہ : ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ ترکی روس پر پابندیاں نہیں لگائے گا۔چاوش اولو نے ایک پرائیویٹ ٹیلی ویژن چینل کی براہ راست نشریات میں شرکت کی اور 24 فروری سے جاری روس۔یوکرین جنگ اور ایجنڈے کے سوالات کے جواب دئیے۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے، روس پر پابندیوں کے فیصلوں کا ایک ایک کر کے جائزہ لیا ہے۔ یعنی پابندیوں کا ہماری اقتصادیات پر کیا اثر پڑے گا، توانائی کی رسد کیسے متاثر ہو گی، ائیر فیلڈ بھی اس میں شامل ہے۔ ہم عمومی معنوں میں اس نوعیت کی پابندیوں میں اصولی طور پر کبھی بھی شامل نہیں رہے۔ موجودہ پابندیوں میں بھی شامل ہونے کا رجحان نہیں رکھتے۔ روس پر پابندیاں لگانے کے لئے ترکی سے نہ تو کوئی طلب کی گئی ہے اور نہ ہی اس معاملے میں ترکی پر کوئی دباو ہے۔ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے بھی کہا ہے کہ ہم روس پر پابندیاں لگانے کا کوئی پروگرام نہیں رکھتے۔ کوئی ایک کردار ایسا ہونا چاہیے کہ جو روس کے ساتھ بات کر سکے۔ ہر ایک نے راستے بند کر دئیے تو روس کے ساتھ کون بات کرے گا؟ ہم بات چیت کا راستہ کھْلا رکھنے کے لئے پابندی پیکیج کا کوئی پروگرام نہیں رکھتے۔ابراہیم قالن نے ایک پرائیویٹ چینل کے لئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ہماری تمنّا ہے کہ روس اور یوکرین وفود کے درمیان جاری مذاکرات سے فائر بندی کا فیصلہ نکلے۔ روس کی طرف سے، کریمیا کو تسلیم کئے جانے اور یوکرین کو غیر مسلح کئے جانے جیسے، غیر حقیقی مطالبات کئے جا رہے ہیں۔ ہمارے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ قابل قبول مطالبات نہیں ہیں۔ ہماری توجہ کے پہلو، جنگ کے خاتمے، مذاکرات سے فائر بندی کا فیصلہ نکلنے اور ایک انسانی کوریڈور تشکیل دئیے جانے پر مبنی ہیں۔