سڑکوں پر نعشوں اور اجتماعی قبروں سے دنیا بھر میں اشتعال۔ روس نئے حملے کی تیاریوں میں ہے : یوکرین
واشنگٹن : امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ بوچا میں عام شہریوں کا بہیمانہ قتل، لاشیں ایک اجتماعی قبر میں ڈالنا، ظلم و بربریت اور انسانیت سوز مناظر بلا شبہ دنیا کے مشاہدے کے لیے چھوڑ دیے گئے ہیں۔ لیبر یونین کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ عام شہریوں کا بیہیمانہ قتل، لاشیں ایک اجتماعی قبر میں ڈالنا، ظلم و بربریت اور انسانیت سوز مناظر ،معذرت کے کسی اظہار کے بغیر دنیا کے مشاہدے کے لیے چھوڑ دیے گئے۔صدر بائیڈن نے کہا کہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ جنگی جرائم سے کم نہیں ،ذمہ دارانہ رویہ رکھنے والے ممالک کومل کر اس کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے تک لانا چاہئیے۔امریکی صدر نے یہ الفاظ ایسے وقت میں کہے ہیں جب بوچا کی سڑکوں پر اور اجتماعی قبر میں پڑی لاشوں کی تصاویر منظرِ عام پر آنے کے بعد دنیا بھر میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے۔بائیڈن نے کہا ہے کہ روس پہلے ہی اپنی ابتدائی لڑائی میں ناکام ہوچکا ہے، اور ان کی فوج یوکرین کے دارالحکومت کیف سے واپس جا رہی ہے۔ تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔انھوں نے کہا کہ لڑائی ایک طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے تاہم، بائیڈن نیاس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ اپنی آزادی کے لیے لڑنے والے یوکرینیوں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔امریکی صدر نے کہا کہ ہم روس کو اس قابل نہیں چھوڑیں گے کہ وہ کئی سالوں تک سر اٹھا سکے۔یوکرین پر روسی جارحیت کے خلاف واشنگٹن نے ماسکو پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق واشنگٹن نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی سابق اہلیہ، بیٹیوں اور روسی بینکوں پرپابندیاں لگا دی ہیں۔دوسری جانب روسی وزیرخارجہ کی اہلیہ اور بیٹی بھی واشنگٹن کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کی زد میں ہیں۔پابندیوں کی فہرست میں سابق روسی صدر دمتری اور سابق وزیراعظم میخائل میشوسٹن بھی شامل ہیں۔خیال رہے کہ اس سے قبل روس نے امریکہ و برطانیہ سمیت متعدد ممالک کو ’غیر دوست ممالک‘ قرار دے کر ویزہ پابندیاں عائد کر دی تھیں، روسی صدر پیوٹن نے ویزہ پابندی کے حکم نامے پر دستخط کیے تھے۔یوکرین جنرل اسٹاف ہیڈ کوارٹر نے کہا ہے کہ روسی فوج دونتسک، لوہانسک اور ماریو پول پر مکمل کنٹرول کے لئے یوکرین کے مشرق میں حربی آپریشن کی تیاریوں میں ہے۔جنرل اسٹاف ہیڈ کوارٹر کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 6 اپریل کی شام کے اعداد و شمار کے مطابق 24 فروری کو حملوں کے آغاز سے لے کر اب تک روس کے فوجی جانی نقصان کی تعداد 18 ہزار 600 ہو گئی ہے۔بیان کے مطابق روسی فوج نے دن بھر میں 6 رہائشی مراکز پر حملے کئے جنہیں ناکام بنا دیا گیا ہے اس کے علاوہ یوکرین کے فوجیوں نے ہرسن کی آبادی ‘اوسوکاروفکا’ کو بھی روسی قبضے سے چھْڑا لیا ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ روس، دونتسک، لوہانسک اور ماریوپول کے مکمل کنٹرول کے لئے یوکرین کے مشرق میں عسکری آپریشن کی تیاریوں میں ہے۔