ہم سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ مذاکرات کے خواہاں ، ایران کا موقف

   

عراقچی اور وٹکوف کی مسقط آمد، اسرائیلی سیکوریٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس

واشنگٹن ؍ تہران ۔ 6 فبروری (ایجنسیز) ایران نے اس امید کا اظہار کیا ہیکہ واشنگٹن اپنے نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے جمعہ کو سلطنت عمان میں ہونے والے مذاکرات کے دوران سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گا، جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ مسلسل فوجی آپشن کے استعمال کا اشارہ دے رہے ہیں۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا خطہ میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کیلئے تمام سفارتی مواقع سے فائدہ اٹھانا ہماری (ایرانی حکومت کی) ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ امریکی فریق بھی ان مذاکرات میں ’’ذمہ داری، حقیقت پسندی اور سنجیدگی‘‘ کے ساتھ شرکت کرے گا۔اسماعیل بقائی نے مزید بتایا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکہ کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات میں شرکت کیلئے مسقط روانہ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران ان مذاکرات میں ’’نیوکلیئر مسئلے پر فریقین کیلئے منصفانہ اور قابل قبول مفاہمت تک پہنچنے کے مقصد کے ساتھ‘‘ شرکت کرے گا۔میڈیا نے ایرانی وزیرخارجہ کی سلطنت عمان آمد کی تصدیق کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے آئندہ ہونے والے مذاکرات کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر صحافیوں کو بتایا کہ دنیا کے ممالک کیساتھ معاملات طے کرنے کی بات ہو، خواہ وہ ہمارے اتحادی ہوں یا دشمن، سفارتکاری ہمیشہ صدر کا پہلا انتخاب ہوتی ہے۔ انہوں نے ایرانی نیوکلیئر صلاحیتوں کو مکمل طور پر روکنے کے حوالے سے ٹرمپ کے موقف کی توثیق کی۔ کیرولین لیویٹ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے یا نہیں … اور ان مذاکرات کے دوران، میں ایرانی حکومت کو یاد دلانا چاہتی ہوں کہ دنیا کی تاریخ کی طاقت ور ترین فوج کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے صدر کے پاس سفارتکاری کے علاوہ بھی کئی آپشن موجود ہیں۔یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خبر رساں ایجنسی ٹاس نے فضائی ٹریفک کے ایک ذریعہ کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کا طیارہ سلطنت عمان میں اتر چکا ہے۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے جمعرات کو تصدیق کی ہیکہ ایران اور امریکہ کے درمیان متوقع مذاکرات سے قبل اسرائیلی سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا ہے۔ یہ اجلاس جو اتوار کو ہونا تھا، اسے وقت سے پہلے طلب کر لیا گیا۔تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات جمعہ کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں شروع ہوں گے۔ تہران نے کہا ہیکہ اس کا ارادہ مذاکرات کو صرف اپنے نیوکلیئر پروگرام تک محدود رکھنا ہے، جبکہ واشنگٹن چاہتا ہیکہ ایران کا میزائل پروگرام اور حماس تنظیم، حزب اللہ اور حوثیوں جیسے مسلح گروہوں کی حمایت کو بھی ایجنڈہ میں شامل کیا جائے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق حکومت کو ان مذاکرات کی کامیابی کی توقع نہیں ہے۔تاہم، “وائی نیٹ نیوز” نے اسرائیلی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایرانی نیوکلیئر پروگرام کو محدود کرنے کے حوالے سے کسی مختصر معاہدے تک پہنچنے کیلئے کچھ رعایتیں دے سکتے ہیں۔