تلنگانہ سے جذباتی لگاؤ ، اقلیتیں ریاست میں پوری طرح محفوظ
مضبوط قیادت اور دور اندیش تدابیر کی وجہ سے لاء اینڈ آرڈر پوری طرح کنٹرول میں
حیدرآباد /20 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ہر لحاظ سے مجموعی طور پر تلنگانہ ملک کے دیگر ریاستوں کے بہ نسبت پرامن ریاست ہے ہر طبقہ کو مذہبی آزادی ہے حکومت خود سرکاری سطح پر عیدیں و تہواروں کا اہتمام کرتی ہے ۔ گذشتہ 10 سال سے لاء اینڈ آرڈر پوری طرح کنٹرول میں ہے ۔ تلنگانہ میں کوئی فساد نہیں ہوا اور نہ ہی کبھی حیدرآباد میں کرفیو نافذ کرنے کی نوبت آئی ہے ۔ سیاسی طور پر مضبوط قیادت اور دور اندیش فیصلوں کی وجہ سے یہ ممکن ہوا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر نے پارٹی کے چند قائدین اور مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا پرگتی بھون میں ایک اجلاس طلب کیا ہے ۔ جس میں ریاست کی تازہ سیاسی صورتحال انتخابات اور اپوزیشن جماعتوں کی سیاسی حکمت عملی اور دیگر امور کا جائزہ لیا گیا ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ سے انکا سیاسی لگاؤ نہیں ہے بلکہ جذباتی لگاؤ ہے ۔ تلنگانہ میں قدرتی وسائل کا انبار ہیں ۔ متحدہ ریاست کے حکمرانوں نے تلنگانہ کو ہر لحاظ سے نظر انداز کیا ہے ۔ وہ پہلے بھی سیاست کا حصہ تھے تاہم تلنگانہ کو ہندوستان کے نقشہ میں اہم مقام عطا کرنے کیلئے ٹی آر ایس پارٹی تشکیل دی کامیاب تحریک چلانے کے بعد علحدہ تلنگانہ کو ہر اعتبار سے ترقی دینے اور سماج کے تمام طبقات کو ترقی دینے کی انتھک کوشش کی ۔ جس کے نتائج عوام کے سامنے ہیں ۔ فی کس آمدنی میں تلنگانہ ملک کے بڑے ریاستوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ سارے تلنگانہ میں امن و امان کا ماحول ہے ۔ حیدرآباد سے فسادات اور کرفیو کا خاتمہ کردیا گیا ۔ بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کیا گیا ہے ۔ 2 لاکھ سے زیادہ سرکاری اور 15 لاکھ سے زیادہ خانگی ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں ۔ حیدرآباد اور تلنگانہ سرمایہ کاروں کی جنت میں تبدیل ہوگیا ۔ مختلف پروگرامس تیار کرتے ہوئے شہروں اور دیہی علاقوں کو مساوی ترقی دی جارہی ہے ۔ بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے بعد حیدرآباد میں اراضیات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں ۔ پرامن ماحول سے ریاست بالخصوص حیدرآباد کے عوام بہت زیادہ خوش ہیں ۔ مختلف سروے میں عوام سے یہ رحجانات مل رہے ہیں کہ ریاست چیف منسٹر کے سی آر کے ہاتھوں میں محفوظ ہے ۔ آئے دن ملک کے مختلف ریاستوں میں اقلیتوں اور پسماندہ طبقات پر حملے ہو رہے ہیں ۔ جبکہ تلنگانہ میں اقلیتیں پوری طرح محفوظ ہیں ۔ ان کے ساتھ کوئی بھی امتیاز اور جانبداری نہیں ہو رہی ہے ۔ اقلیتوں کی ترقی اور بہبود کیلئے گذشتہ 10 سال کے دوران 12 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں ۔ خواتین دلتوں ، معذورین ، نوجوانوں یہاں تک اعلی طبقات کے غریب لوگوں کیلئے بھی خصوصی اسکیمات متعارف کرائی گئی ہیں ۔ شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیمات غریب لڑکیوں کی شادیوں کیلئے بہت بڑی نعمت ثابت ہو رہی ہیں۔ رہی بات اپوزیشن جماعتوں کے تنقیدوں کی یہ ان کی اپنی سیاسی مجبوری ہے ورنہ ان کی اپنی دوکان بند ہوجائے گی ۔ اپوزیشن جماعتوں کی گمراہی کے باوجود عوام حکمران جماعت بی آر ایس کے ساتھ ہے اور تیسری مرتبہ بی آر ایس پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی ۔ اس کے بعد قومی سطح پر اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرتے ہوئے نریندر مودی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کیلئے سرگرم رول ادا کرے گی ۔ ن