ہم پیپر لیک و بیروزگاری اور مودی جی منگل سوتر و مجرا کی بات کرتے ہیں

   

وزیر اعظم کی انتخابات کے دوران اپوزیشن کے خلاف تقاریر پر سخت تنقید‘ راجیہ سبھا میں کھرگے کا خطاب

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر تحریک شکریہ کے دوران خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے حکومت اوروزیر اعظم مودی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم کسانوں کی بات کرتے ہیں تو مودی بھینسیں چھیننے کی بات کرتے ہیں۔ جب ہم بی جے پی کی تخریب کاری والی سیاست پر بات کرتے ہیں تو مودی اورنگ زیب کی بات کرنے لگتے ہیں۔ جب ہم پیپر لیک کی بات کرتے ہیں تو مودی منگل سوتر و مجرا کی بات کرنے لگتے ہیں۔ جب ہم بے روزگاری کی بات کرتے ہیں تو مودی جی من کی بات کرنے لگتے ہیں۔کھرگے نے وزیر اعظم مودی کے جائیدادوں کی تقسیم سے متعلق بیان سمیت انتخابی تقاریر کا حوالہ دیتے ہوئے ان پر اپوزیشن پارٹیوں کی توہین کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہا کہ اگر انہیں اپنے ووٹ بینک کے سامنے مجرا کرنا ہے تو کریں۔ اس پر ایوان میں ہنگامہ ہو گیا۔ کھرگے نے کہا کہ سچ بولنے والے اکثر بہت کم بولتے ہیں، مگر جھوٹ بولنے والے مسلسل اور مستقل بولتے ہیں۔ ایک سچ کے بعد مزید سچ کی ضرورت نہیں مگر ایک جھوٹ کے بعد سینکڑوں جھوٹ بولے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم مودی جی کی ’امرت وانی‘ ہے، میں نے یہاں رکھا۔ اگر آپ کو یا ان کو دکھ ہوا ہے تو معذرت چاہتا ہوں۔انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم کی تقریروں کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کے قومی صدر نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے 421 بار مندر۔مسجد اور دیگر مذاہب کے بارے میں بات کی۔ پاکستان اور اقلیتوں کے بارے میں 224 بار بات کی۔ کانگریس کے منشور کو ایک خاص مذہب سے جوڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ 75 سالوں میں مختلف پارٹیوں کے وزرائے اعظم نے الیکشن میں مہم چلائی لیکن ایسا کبھی نہیں دیکھا۔ ہم نے الیکشن کمیشن سے 117 شکایات کیں لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ انتخابات کے دوران کانگریس کے کھاتے ضبط کیے گئے اور انکم ٹیکس کے نوٹس موصول ہوئے۔ آپ ’لیول پلے گراؤنڈ‘ بولتے ہیں اور الیکشن آنے پر اپوزیشن پارٹیوں کے اکاؤنٹ منجمد کر دیتے ہیں۔ حکمراں پارٹی نے چندہ لیا اور الیکٹورل بانڈ کے ذریعے پارٹی کے لیے غیر قانونی طور پر ہزاروں کروڑ روپے کمائے۔ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ عوام تاریخ کے حوالے سے فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جھوٹ بولنا، لوگوں کو تقسیم کرنا یہ سب پہلی بار ہوا ہے۔ یہ کام پہلے کسی وزیر اعظم نے نہیں کیا۔ اس دوران وزیر اعظم مودی کو نعرے دینے میں ماہر بتاتے ہوئے کھرگے نے کہا کہ اپوزیشن 10 سال سے کہہ رہا ہیکہ نعرے مت دیجیے، کام کیجیے۔ آپ 14 ممالک میں گئے، الیکشن میں سینکڑوں تقریریں کیں، آپ منی پور کیوں نہیں گئے؟ کھرگے نے جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کچھ لوگوں کو سہارا دیا اور کچھ کو ترقی دی لیکن غریبوں کو تباہ کر دیا۔