ہماچل پردیش میں بارش کا قہر جاری، 12 افراد ہلاک

,

   

زمین کھسکنے سے کلو میں 30سکنڈ میں7عمارتیں تاش کے پتوں کی طرح ڈھیر ہوگئیں
شملہ: ہماچل پردیش میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہوئی بارش نے تباہی مچا دی ہے۔ جہاں ریاست میں دو بچوں سمیت 12 افراد کی موت ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی 5 قومی شاہراہوں سمیت 709 سڑکیں بھی بند رہیں۔ چہارشنبہ کو دن بھر موسلا دھار بارش ہوئی۔ عالم یہ ہوا کہ ریاست کے کئی اضلاع میں سب کچھ ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ شملہ میں کئی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی۔منالی میں زمینی تودے کھسکنے سے کئی مکانات تاش کے پتوں کی طرح ڈھیر ہوگئے۔ کلو میں 30سکنڈ میں 7عمارتیں منہدم ہوگئیں۔ بہار سمیت 15ریاستوں میں شدید بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے ۔ہماچل کے کلو شہر کی نصف سے زائد سڑکیں بند ہو گئیں اور کئی مقامات پر درخت گر گئے۔ منڈی کے علاقے پنڈوہ کے ککلوہ میں بادل پھٹنے سے دو گھر اور ایک سکول بہہ گیا۔ضلع میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 8 افراد ہلاک ہوئے۔ 2 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ چندی گڑھ منالی قومی شاہراہ پر بارش کے نالے میں پانی اور ملبہ زیادہ ہونے کی وجہ سے ملبہ چار لین والی سرنگ میں داخل ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی ہنوگی ماتا کے مندر پر بھی بڑی مقدار میں ملبہ آ گیا ہے۔اے ڈی ایم منڈی ڈاکٹر مدن کمار نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ مرنے والوں میں سیراج اسمبلی حلقہ کے گاؤں پنچایت کلہانی بھی شامل ہیں ۔ گاؤں ڈگیل میں زبردست مٹی کے تودے گرنے سے ایک مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور اس میں دب جانے سے 2 افراد کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔ نوک سنگھ کی موت سیراج کے علاقے میں گائے کے گودام میں د ب جانے سے ہوئی جبکہ گوہر سب ڈویژن اور تحصیل صدر میں ایک ایک شخص کی موت ہوئی۔ انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کی ہے۔گرام پنچایت کلہانی کے سراچی میں اسکول گراؤنڈ سمیت کئی گھر مٹی کے تودے کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔ خاتون لچھمی دیوی (52) بیوی تلو رام منڈی کے کٹولہ کمند کے ارنہاد سنگلیہاد گاؤں میں بہہ گئی۔ نالے کا پانی دوسری طرف موڑتے ہوئے خاتون تیز کرنٹ میں بہہ گئی ۔