کانگریس قائد عمران پرتاپ گڑھی کے تبصرہ پر بعض قائدین کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار
حیدرآباد۔11اپریل(سیاست نیوز) ہمایوں کبیر کے ویڈیو نے ہندستان بھر میں چلائی جانے والی ووٹ کی تقسیم کی سیاست پر کہرام بپا کردیا ہے اور ہمایوں کبیر کی ویڈیو نے جو آگ لگائی ہے اس کی چنگاریاں اب مجلس کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے لگی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بیرسٹر اسدالدین اویسی کی سیاست کو بھی نشانہ بنایا جانے لگا ہے حالانکہ ہمایوں کبیر کے ویڈیو کے منظر عام پر آتے ہی مجلس اتحاد المسلمین نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ہمایوں کبیر سے کئے گئے اتحاد کو ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ہمایوں کبیر نے ویڈیو میں مسلمانوں کو بے وقوف بناتے ہوئے ان کے ووٹ کی تقسیم کے ذریعہ بی جے پی کو فائدہ پہنچانے سے متعلق ویڈیو میں انکشافات کے بعد مجلسکے اتحاد کے خاتمہ کے متعلق فیصلہ سے بیرسٹراسدالدین نے کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے X کھاتہ کے ذریعہ واقف کروایا جبکہ اتحاد کا اعلان عیدملاپ تقریب سے خطاب کے دوران کیاگیاتھا اور بعد ازاں اس سلسلہ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہمایوں کبیر سے مجلس اتحادالمسلمین کی انتخابی مفاہمت کے قد و خال کو پیش کیاگیا تھا ۔ ہمایوں کبیر کے 1000 کروڑ کے حصول کے ذریعہ مغربی بنگال میں بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے انکشاف کے بعد قومی صدر کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ جناب عمران پرتاپ گڑھی نے اپنے X کھاتہ کے ذریعہ بالواسطہ طور پر مجلس اتحاد المسلمین کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک ریاست مغربی بنگال کی سیاست میں ووٹوں کی تقسیم کے لئے 1000 کروڑروپئے دے رہی ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملک کی کئی ریاستوں میں بی جے پی کو فائدہ پہنچانے والوں کو کس طرح کے فائدے پہنچائے جا رہے ہوں گے!عمران پرتاپ گڑھی کے اس بیان میں مجلس کاکوئی تذکرہ نہیں تھا لیکن شمالی ہند کے مجلسی قائدین نے ان کی اس پوسٹ پر شدت کے ساتھ ردعمل ظاہرکیا جسے ’اڑتا ہوا تیر لینے ‘کے مترادف تصور کیا جا رہاہے۔ 2014 کے بعد سے اب تک مجلس نے جن سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کیا اور انتخابات کے بعد انہوں نے کیا موقف اختیار کیا اس پر بحث شروع ہوچکی ہے اور سوشل میڈیا پر اترپردیش اسمبلی انتخابات کے دوران مجلس کے او پی راج بھر کی سیاسی جماعت سہیل دیو پارٹی کے ساتھ اتحاد کا تذکرہ کیا جا رہاہے ، جو بعد ازاںبی جے پی سے اتحاد کرتے ہوئے این ڈی اے کا حصہ بن گئے اور اوپی راج بھر کابینہ میں بھی شامل ہوگئے ۔ اب جبکہ ہمایوں کبیر کا ویڈیو انتخابات سے قبل منظر عام پر آچکا ہے اور انہوں نے اس ویڈیو میں اعتراف کیا ہے کہ مسلم ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ بی جے پی کی مدد کریں گے ۔ ہمایوں کبیر جب بابری مسجد کی تعمیر کے اعلان کے بعد قومی سطح پر توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اسی وقت مجلس اتحادالمسلمین کے قومی ترجمان جناب عاصم وقار نے انہیں بھارتیہ جنتاپارٹی کا ایجنٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے خلاف ماحول سازی کا کام کریں گے لیکن اس کے باوجود بیرسٹر اسدالدین اویسی کے فیصلہ پر بھی قومی سطح پر اعتراض کرتے ہوئے کہا جار ہاہے کہ جب ان کی پارٹی کے ترجمان عاصم وقار ہی یہ کہہ رہے تھے کہ ہمایوں کبیر بی جے پی کے ایجنٹ ہیں تو پھر کیوں ان کی پارٹی کے ساتھ اتحاد کیاگیا!ذرائع کے مطابق ہمایوں کبیر طویل عرصہ سے بھارتیہ جنتاپارٹی سے رابطہ میں رہتے ہوئے اس منصوبہ پر عمل آوری کو یقینی بنارہے تھے اور انہوں نے اس سلسلہ میں متعدد مرتبہ دہلی کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی بی جے پی کے سرکردہ قائدین سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔ روزنامہ سیاست نے 24مارچ 2026کے شمارے میں ہمایوں کبیر کے بھارتیہ جنتا پارٹی سے روابط اور ان کی سیاسی زندگی کے متعلق تفصیلات پیش کرتے ہوئے مجلس اتحادالمسلمین کے اتحاد کے متعلق خبر شائع کی تھی۔ ملک میںمسلم ووٹوں کی تقسیم کے سلسلہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی پرمتعدد الزامات عائد ہونے کے ساتھ مجلس اتحاد المسلمین کو بھی ملک کی مختلف ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور مجلس پر ’بی جے پی کی ’بی ‘ ٹیم ہونے الزام عائد ہوتا رہا ہے جس کی بیرسٹر اسدالدین اویسی رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے متعدد مرتبہ وضاحت بھی کرچکے ہیں۔3/A/b