ہند و پاکستان ہمارے ملک میں کیا ہورہا ہے

   

رامچندر گوہا
ملک کی آزادی اور تقسیم کے بعد ہندوستان میں پاکستان کی اشتعال انگیزی کو بہانہ بناکر فرقہ وارانہ ماحول خراب کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ، اُن کامقصد ملک میں بے چینی پیدا کرکے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا جینا حرام کرنا اور پاکستان میں جو کچھ ہورہا تھا اس کا بدلہ لینا تھا ۔ بہرحال 15 اکتوبر 1947 ء کو آزادی اور تقسیم ملک کے دو ماہ بعد ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو ایک مکتوب لکھا جس میں انھوں نے پرزور انداز میں یہ لکھا : ’’پاکستان کی جانب سے کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی اور وہاں غیرمسلموں کے ساتھ جو کچھ بھی ناروا سلوک روا رکھا جارہا ہے اور جو کچھ بھی مظالم ڈھائے جائیں اس کے باوجود ہمیں اپنے ملک میں اس اقلیت کے ساتھ مہذب انداز میں پیش آنا ہوگا ۔ ایک جمہوری ملک میں اُنھیں تحفظ اور شہری حقوق فراہم کرنے ہوں گے ۔ جہاں تک شہری حقوق کا سوال ہے تمام ہندوستانیوں کو دستور ہند میں مساویانہ بنیادی حقوق بشمول شہری حقوق حاصل ہیں‘‘ ۔
پنڈت نہرو کی سیکولرازم اور اقلیتوں کیلئے مساوی حقوق سے وابستگی خود اُن کی اپنی پارٹی کانگریس میں بھی مکمل طورپر مشترکہ نہیں تھی۔ کانگریس میں اچھی خاصی تعداد میں قدامت پسند ہندو قائدین موجود تھے لیکن اہم بات یہ ہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے وزیراعظم کی حیثیت سے خود ہندوتوا کی طاقتوں کو ( ان طاقتوں کی نمائندگی آر ایس ایس اور جن سنگھ کرتے تھے ) حاشیہ پر رکھنے ، اُنھیں زیادہ اہمیت نہ دیتے ، اُنھیں اپنے ناپاک عزائم و ارادوں سے روکنے کی بھرپور کوششیں کی ۔
اُن کے گذرجانے کے بعد کی دہائیوں میں آر ایس ایس اور جن سنگھ کی ذیلی تنظیم یا اُس کی سیاسی ونگ بی جے پی بڑی تیزی کے ساتھ اپنا اثر بڑھاتی چلی گئی ( اس معاملہ میں ایل کے اڈوانی کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا جنھوں نے 1990 ء کے دہے میں بابری مسجد پر رام مندر تعمیر کروانے کیلئے رام رتھ یاترا شروع کرکے بی جے پی کو دو ارکان پارلیمان سے اقتدار تک پہنچادیا ) ۔ بی جے پی کی تیزی سے ترقی نے حقیقت میں دیکھا جائے تو ملک خاص کر ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بہت متاثر کیا ، حالانکہ ہمارے وطن عزیز ہندوستان جس نے 15 اگسٹ 1947 ء کے بعد اپنے پڑوسی ملک سے مختلف اور بہت زیادہ جامع راہ اختیار کرنے کی اُمید کی تھی لیکن اب مذہب اور سیاست کے باہمی امتزاج کے معاملہ میں دیکھیں پاکستان کے بہت قریب دکھائی دیتا ہے ۔
پاکستان میں گزشتہ 77 برسوں کے دوران مذہبی جنون پسندی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور حالیہ دہوں کے دوران بھی مذہبی جنون پسندی اور مذہبی انتہاپسندی کو ہندوستان میں زبردست فروغ حاصل ہوا جس سے مذہبی منافرت بڑی تیزی سے پھیل گئی۔ آج ہمارے ملک میں اکثریتی سیاست بلندی پر پہنچ گئی ہے اور یہ اکثریتی سیاست اس حقیقت سے واضح ہوتی ہے کہ پچھلے تین عام انتخابات میں بی جے پی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے 800 سے زائد ارکان پارلیمان میں ایک بھی مسلمان نہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کے زیراقتدار ریاستوں کے ارکان اسمبلی میں بڑی مشکل سے ایک دو مسلمان نظر آتے ہیں۔
اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ نریندر مودی اور امیت شاہ کے تحت یا اُن کی قیادت میں بی جے پی نے ہندو ووٹ بنک بنانے پر زیادہ توجہہ مرکوز کی ۔ دونوں نے انتخاب لڑنے اور صرف ہندوؤں کے ووٹوں سے ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے پر تمام تر توجہہ مرکوز کی اور اُنھیں اس میں پوری پوری کامیابی حاصل ہوئی ۔ ایک مرتبہ جب ہندو اکثریتی سیاست کے ذریعہ اقتدار حاصل کرلیا گیا تب سنگھ پریوار نے سماج یا معاشرہ پر اپنی بالادستی مضبوط کرلی جس کیلئے ہندوستان مسلمانوں کو اور بعض اوقات ہندوستانی عیسائیوں کو بھی ہراساں و پریشان کیا گیا اور معاشرے میں اُنھیں ایک برائی کے طورپر پیش کیا گیا ۔ اُنھیں مختلف بہانوں سے بدنام کیا گیا ، اُن کے بارے میں جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے غلط فہمیاں پیدا کی گئیں جبکہ بھولے بھالے اور سادہ لوح ہندو اُن کی باتوں میں آگئے ۔ اُن کی جھوٹ سے متاثر ہوگئے ۔ آپ اور ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایک ایسا بھی دور تھا جب مسلمان اہم ترین کابینی عہدوں پر فائز ہوا کرتے تھے ، بڑے اور اہم سرکاری محکمہ جات ( بشمول سفارتی کارپس اور انٹلیجنس بیورو ) چلایا کرتے تھے ، ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی عدالت عظمیٰ ( سپریم کورٹ) اور انڈین ایئرفورس جیسے اداروں کی سربراہی یا قیادت کیا کرتے تھے ۔
یاد رہے کہ نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات کے دو شہروں سے پارلیمنٹ کی نمائندگی کیلئے اکثر مسلمانوں کو منتخب کیا جاتا تھا لیکن اب بمشکل کوئی مسلمان ملک کے اعلیٰ عہدہ پر فائز نظر آئے گا ۔ جہاں تک ورکنگ کلاس مسلمانوں کا سوال ہے امکنہ ، روزگار ( ملازمتوں ) کے شعبوں میں بھی اُن کے ساتھ امتیاز ، تعصب برتا جارہا ہے ، جانبداری سے کام لیا جارہا ہے اور مسلمانوں کو ہراساں و پریشاں کرنا ، اُن کے خلاف اشتعال انگیز بیانات جاری کرنا ، اُ ن پر طنز و طعنوں کے تیر برسانا عام ہوگیا ہے اور یہ خطراک رجحان اکثر چین تشدد ( جیسا کہ ہجومی تشدد اور مکانات پر بلڈوزر چلاکر اُنھیں زمین کے برابر کردینا ) کی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔
ایک بات ضرور ہے کہ اب عوامی زندگی میں کسی بھی اعلیٰ عہدہ پر مسلمانوں کی موجودگی تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ اگر موجودہ صورتحال کاجائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہندو اکثریتی رجحان قانونی محاذ پر بھی نمایاں ہے۔ شہریت ترمیمی قانون ( سی اے اے ) کھلے طورپر مسلمانوں کے خلاف تعصب و جانبداری اور امتیازی سلوک کو ظاہر کرتا ہے ۔ اگر ہم جموں و کشمیر کو کبھی حاصل دفعہ 370 کی منسوخی کی بات کرتے ہیں تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ جموں و کشمیر ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست تھی ۔ ریاست کو خصوصی درجہ دینے والی دستور کی دفعہ 370 کو منسوخ کرکے اُس کی شناخت ایک طرح سے بدل دی گئی ۔ علامتی سطح پر بھی اکثریتی سیاست وہاں نمایاں ہے۔
ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست کے چیف منسٹر کا زعفرانی لباس زیب تن کرنا اور وزیراعظم نریندر مودی کا رام مندر کی تعمیر کی افتتاحی تقریب کی صدارت کرنا اُس کی مثالیں ہمارے بااثر اور طاقتور سیاسی قائدین کی جانب سے اس طرح کے اشارے اعلیٰ عہدوں پر فائز سرکاری عہدیداروں جن میں چیف جسٹس آف انڈیا اور فوجی جرنیل بھی شامل ہیں کو بھی حوصلہ دیتے ہیں کہ وہ کھلے عام دستوری اقدار کیخلاف ورزیوں کاارتکاب کریں اور اس قسم کا رویہ اختیار کریں گویا وہ پہلے ہندو ہیں اور بعد میں ایک ہندوستانی ۔
حد تو یہ ہوگئی ہے کہ ہندوتوا نے عوامی ثقافت میں بھی اثر و رسوخ حاصل کرلیا ہے ۔ اس کی بدترین مثال ہندی سینما یا بالی ووڈ ہے جسے دس بارہ برس قبل سیکولرازم اور سیکولر نظریات کا مضبوط قلعہ تصور کیا جاتا تھا ۔ آج بالی ووڈ میں اکثر ایسی فلمیں بنائی جارہی ہیں جو غیرہندوؤں ( مسلمانوں ) کو منفی کرداروں میں اور منفی انداز میں دکھاتی ہیں۔ اس طرح کی فلموں کے نتیجہ میں مسلمانوں اور ( عیسائیوں) کے خلاف نفرت کازہر پوری تیزی سے پھیل رہا ہے اور ہمارے عظیم ملک ہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے جبکہ ہندوؤں میں مسلمانوں کے تعلق سے غلط فہمیاں پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں جب میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں اکثریتی تعصب کے کھلے عام اعتراف کا مظاہرہ بہار اور مغربی بنگال میں ہوئے اور ہونے والے اسمبلی انتخابات کیلئے بی جے پی نے جو حکمت عملی اختیار کی اور جس طرح منصوبہ سازی کی اس میں صاف نظر آرہا ہے ۔
ان دونوں ریاستوں میں بی جے پی کی انتخابی مہم میں آپ سب دیکھ سکتے ہیں کس طرح کے خیالات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی سے لیکر وزیرداخلہ دامیت شاہ اور خاص طورپر چیف منسٹر آسام کی تقاریر اور اُن کے لب و لہجہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس مقصد کے تحت تقاریر کررہے ہیں ؟ دراصل وہ چاہتے ہیں کہ وہ ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف اُکساکر اُن کے اذہان و قلوب میں ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف نفرت بھردی جائے ۔ یہ امر نہایت افسوس ناک اور حیرت میں بلکہ ایک صدمہ سے دوچار کرنے والا ہے کہ یہ الفاظ ضبط تحریر میں لانے تک سپریم کورٹ یا اعلیٰ عدلیہ نے اشتعال انگیز تقاریر کرنے والے بی جے پی قائدین کو لگام دینے سے گریز کیا جو یقینا ہمارے عوامی اداروں میں اخلاقی گراوٹ اور اُن میں اخلاقی زبوں حالی کی علامت بھی ہے ۔ ہم یہاں بلا شک و شبہ کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان بڑی تیزی کے ساتھ پاکستان کے مشابہ ہوتا جارہاہے اور ملک کی موجودہ صورتحال سے نمٹنا اور فرقہ پرستوں کے عزائم کو ناکام بنانا بہت ضروری ہے ۔