مسٹر پی چدمبرم (سابق مرکزی وزیر داخلہ )
یہ پتنگ ہے ، یہ پرندہ ہے ، یہ ایک طیارہ ہے ، یہ کیا ہے ؟ 6 فبروری 2026 ء کو ہندوستان اور امریکہ کی حکومتوں کی جانب سے جو مشترکہ بیان جاری کیا گیا اس بارے میں شائد ’’یہ کیا ہے ‘‘ جیسا سوال ہی مناسب سوال ہے ۔ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو دونوں ملکوں کے مشترکہ بیان نے نہ ختم ہونے والی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ دوسری طرف حکومت ہند کی جانب سے ہند ۔ امریکہ جس تجارتی معاہدہ سے اتفاق کیا گیا اس کی تفصیلات پیش کرنے سے مسلسل گریز کیا جارہا ہے جس سے شکوک و شبہات دور کرنے میں کوئی مدد نہیں ملی بلکہ ہندوستای عوام میں مذکورہ معاہدہ کو لیکر شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہوا ۔ چونکہ مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ دنیا بھر کے ملکوں کے ساتھ تجارتی معاہدات کررہے ہیں ( یا اُن ملکوں کو تجارتی معاہدات کرنے پر مجبور کررہے ہیں) باالفاظ دیگر ہندوستان کے ساتھ جس تجارتی معاہدہ سے اتفاق کیا گیا ہے اور وہ بھی ڈونالڈ ٹرمپ کے زور دینے پر اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس بارے میں امریکہ کو یا اس کے کسانوں اور تاجرین کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں لیکن ہندوستان کیلئے تشویش اور فکرمندی کی بات ہے۔
جہاں تک مشترکہ بیان کا سوال ہے شائد وہ امریکہ کیلئے تشویش کا باعث نہ ہو لیکن ہندوستان کیلئے باعث تشویش ضرور ہے ۔ ہندوستان ۔ امریکہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان فریب پر مبنی ہے ۔ ہندوستانی مذاکرات کاروں نے سال 2025 ء میں بار بار یہ دعویٰ کیاکہ وہ امریکہ کے ساتھ باہمی تجارتی معاہدہ کیلئے بات چیت کررہے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان جلد ہی ایک Bilateral Trade Agreement طئے پائے گا ۔ ہمارے وزیر کامرس نے ایک نہیں بلکہ متعدد مرتبہ کہا ہے کہ ایک مشترکہ بیان BTA نہیں ہے یہاں تک کہ یہ عبوری ( عارضی ) معاہدہ بھی نہیں ہے بلکہ ایک عارضی یاعبوری معاہدہ کا فریم ورک ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا ۔ واضح رہے کہ مشترکہ بیان جاری کرنے کے بعد فریقین ( ہند ۔ امریکہ ) نے دعوے کئے کہ معاہدہ برابری پر مبنی ہے اور یہ معاہدہ حقیقت میں قارئین کی ذہانت کی توہین ہے ۔ مشترکہ بیان کا سرسری مطالعہ بھی یہ بات واضح کردیتا ہے کہ یہ کسی بھی طرح باہمی برابری پر مبنی نہیں ہے ۔ آپ قارئین سے درخواست ہے کہ مشترکہ بیان کے متن کا بغور جائزہ لیں جسے میں نے بڑی حد تک ذیل میں نقل کیا ہے:
ہندوستان، امریکہ کی تمام صنعتی مصنوعات اور امریکی غذائی و زرعی اشیاء کی وسیع تر اقسام پر محاصل ختم کردے گا یا پھر کم سے کم کرے گا ، اس کے برعکس امریکہ ہندوستان سے آنے والی مصنوعات پر 18 فیصد ٹیرف عائد کرے گا اور یہ ٹیرف اصل میں 2 اپریل 2025 ء کو عائد کردہ 25 فیصد ٹیرف سے کم ہے ۔ ان ہندوستانی مصنوعات میں پارچہ جات ، تیار ملبوسات ، لیدر ( چمڑے کی مصنوعات ) بشمول جوتے ، پلاسٹک ، ربر ، نامیابی کیمکلز ، گھریلو سجاوٹ کی اشیاء ، دستکاری ( ہینڈی کرافٹس ) کی مصنوعات اور بعض مشنری شامل ہیں۔
مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ کئی ایک مصنوعات جیسے جینرک فارما سیوٹیکلس (ادویات ) ، قیمتی پتھر ، ہیرے اور طیارے کے پرزوں پر جوابی محاصل یا ٹیرف صرف اس صورت میں ختم کرے گا جب عبوری معاہدہ کامیابی سے پائے تکمیل کو پہنچے گا۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صفر ٹیرف اور 18 فیصد ٹیرف میں برابری کیا ہے ۔ ایک اور بات ہندوستان اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ وہ امریکی آلات طبی کی تجارت میں طویل عرصہ سے جو رکاوٹیں حائل ہیں ان رکاوٹوں کو دور کرے گا جواب میں امریکی آئی سی ٹی مصنوعات کیلئے برآمدی لائیسنس کے محدود طریقہ کار ختم کرے گا جو بازار تک رسائی میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں ۔ ہندوستان یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ وہ امریکی غذائی اور زرعی مصنوعات کی تجارت میں موجود غیرمحصولاتی رکاوٹوں کو دور کرے گا اس کے متضاد یابرعکس امریکہ پر ایسی کوئی ذمہ داری عائد نہیں کی گئی ۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ مودی حکومت امریکہ پر بہت زیادہ مہربان دکھائی دیتی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہندوستان آئندہ 5 برسوں کے دوران امریکہ میں 500 ارب ڈالرس کا سرمایہ مشغول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ حکومت ہند کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ آنے والے پانچ برسوں میں امریکہ سے اس کی توانائی مصنوعات ، طیاروں ، طیاروں کے پرزوں ، قیمتی دھاتوں ، ٹکنالوجی پراڈکٹس اور پکوان کیلئے استعمال ہونے والے کوئلہ کی خریداری پر 500 ارب ڈالرس خرچ کرے گا اور دونوں حکومتیں خاص طورپر ٹکنالوجی پراڈکٹس بشمول گرافک پروسیسنگ یونٹس (GPUs) اور ڈیٹا سنٹرس میں استعمال ہونے والی اشیاء کی تجارت میں قابل لحاظ حد تک اضافہ کریں گی ۔ اس پیراگراف میں جن مصنوعات یا اشیاء کا حوالہ دیا گیا وہ تمام امریکی برآمداتی اشیاء ہیں نہ کے ہندوستانی مصنوعات جس کی خریداری کا امریکہ ارادہ رکھتا ہو تو پھر یہاں وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ باہمی تجارت میں برابری کہاں ہے ۔
آپ کو بتادیں کہ مشترکہ بیان کے ساتھ جاری ایک ایکزیکٹیو آرڈر میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستان کی جانب سے کئے گئے اہم اقدامات کا بطور خاص حوالہ دیا ۔ مثال کے طورپر روسی فیڈریشن سے تیل کی راست یا بالواسطہ خریدی بند کرنے کاعزم ، امریکہ سے توانائی مصنوعات خریدنے کا اعلان اور امریکہ کے ساتھ اسٹرٹیجک ( دفاعی ) تعاون و اشتراک بڑھانے فریم ورک معاہدہ ٹرمپ کی نظر میں ہندوستان کے اہم اقدامات ہیں ۔ ان تمام اقدامات سے امریکہ کو زیادہ اور ہندوستان کو کم فائدہ ہوگا ۔ لہذا مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ نے 6 اگسٹ 2025 ء کو عائد کیا گیا ایڈیشنل ویلورم ریٹ آف ڈیوٹی ( 25 فیصد تعزیری محصول ) ختم کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ نے دیا کچھ نہیں لیکن اس نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ ہندوستان سے تین وعدے حاصل کئے ۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہندوستان ۔ امریکہ تجارتی معاہدہ سے اتفاق برابری کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ یہاں تو صرف اور صرف ہندوستان کا نقصان ہے اور ہندوستان نے ایک طرح سے امریکہ کی شرائط منظور کرتے ہوئے اس کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک دیئے ۔ راہول گاندھی نے صاف طورپر کہا کہ مودی نے خود کو امریکہ کو سرینڈر کردیا ہے۔
کھلا خطرہ : اگر ہندوستان روسی فیڈریشن سے تیل راست یا بالواسطہ طورپر خریدنا بحال کرتا ہے تو اس صورت میں امریکی حکومت جوابی کارروائی کرتے ہوئے ہندوستانی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف دوبارہ عائد کرسکتی ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ عبوری فریم ورک سے 6 فبروری 2026 ء کو اتفاق کیا گیا اور روسی تیل نہ خریدنا ایک اہم موضوع ہے۔ امریکہ نے تو اعلان کردیاہیکہ ہندوستان روسی فیڈریشن سے تیل نہیں خریدے گا ۔ ایسے میں آپ لوگ ہی بتائیے کہ ہندوستان ۔ امریکہ کے درمیان برابری پر مبنی معاہدہ کیسے ہوا ؟
آپ کو بتادیں کہ 12 اپریل 2020 ء کو ہندوستانی مصنوعات پر امریکی ٹیرف یا محاصل 3 فیصد MFN کی شرح کے حساب سے چونکہ ہندوستان باہمی فاضل تجارت سے مستفید ہونے والا ملک ہے ٹرمپ نے بحیثیت صدر اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جو 25 فیصد محاصل عائد کیا تھا اس میں تخفیف کرکے 18 فیصد کردیا ۔ ویسے بھی ٹرمپ انتظامیہ نے کئی ملکوں پر جوابی محاصل ( ٹیرف ) میں بے تحاشہ اضافہ کیااور جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلس دائر کی گئیں اور ہوسکتا ہے کہ ٹرمپ کے فیصلوں کو امریکی مفاد میں غیردستوری قرار دیا جائے ۔ بہرحال جو کچھ بھی ہو امریکہ نے ہندوستان سے بے شمار رعایتیں حاصل کرلی ہیں جبکہ ہندوستان کو اس نے رعایتیں نہیں دی ۔ ایسے میں پھر سوال پیدا ہوتا ہیکہ کیسے دونوں ملکوں کے درمیان برابری کا سودا ہوا ہے۔ ہر حال میں امریکہ کا فائدہ اور ہندوستان کا نقصان دکھائی دیتا ہے۔
ایک ٹریڈ اکسپرٹ ( تجارت کے ماہر ) مسٹر اجئے سریواستو کا کہنا ہے کہ اسٹیل ( فولاد ) اور المونیم پر ٹیرف 50 فیصد ہی رہیں گے ۔ اسی طرح کاروں پر کاروں کے پرزوں پر بھی محاصل 25 فیصد ہی رہیں گے ۔ ہندوستان نے امریکہ کو بہت زیادہ چھوٹ اور رعایت دے دی ہے خاص طورپر امریکی صنعتی مصنوعات ، کئی زرعی اشیاء ، سرخ جوار ، سویابین آئیل ، شراب اور اسپرٹس ، آٹو موبائیلز اور قیمتی موٹر سیکلوں پر امریکہ کو غیرمعمولی رعایتیں دی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ہندوستان 5 برسوں کے دوران امریکہ سے 500 ارب ڈالرس میں اور کیاکیا خریدے گا ۔ ایک بات ضرور ہے کہ ہندوستان میں چھوٹے پیمانہ کی تجارت پوری طرح تباہ ہوجائے گی ۔ ہاں امریکہ کی چند مصنوعات ہیں جس سے ہندوستانی معیشت کو مدد ملے گی ۔ ویسے بھی ہمارے پاس امریکہ سے مہنگے ترین طیارے ؍ فوجی آلات اور امریکی تیل خریدنے کے سوائے کوئی چارہ کار نہیں بچے گا ۔