ہند ۔ پاک کشیدگی کے خاتمہ تک سارک ممالک میں خوشحالی ناممکن

   

وزیر فینانس بنگلہ دیش اے کے عبدالمومن کا بیان
حیدرآباد۔25 ڈسمبر(سیاست نیوز) سارک ممالک کی خوشحالی میں ہند۔پاک کشیدگی سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور جب تک یہ حالات معمول پر نہیں آتے سارک ممالک میں خوشحالی پیدا نہیں ہوگی۔بنگلہ دیشی وزیر فینانس مسٹر اے کے عبدالمومن نے یہ بات کہی۔ انہو ںنے بتایا کہ سارک ممالک کے بہتر مستقبل کا انحصار اور اس اشتراک میں شامل ممالک کی خوشحالی کیلئے ہند۔ پاک کشیدگی کو دور کرتے ہوئے ایک دوسرے پر عائد کئے جانے والے الزامات کے سلسلہ کو ترک کیا جانا ناگزیر ہے۔ مسٹر اے کے عبدالمومن نے کہا کہ سارک ممالک کے حالات کیلئے ہندستان اور پاکستان ذمہ دار ہیں۔انہوں نے واضح طور پر کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فقدان کے سبب یہ صورتحال پیدا ہورہی ہے اور سارک کا آخری اجلاس سال 2014 میں منعقد ہوا تھا اور اس کے بعد سے اب تک کوئی اجلاس منعقد نہیں کیا گیا۔ وزیر فینانس بنگلہ دیش نے کہا کہ وہ موجودہ صورتحال میں بنگلہ دیش‘ بھوٹان‘ ہندستان اور نیپال کے اتحاد اور ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے کیلئے اور بی آئی ایم ایس ٹی ای سی (بے آف بنگال انیشیٹیو فار ملٹی سیکٹوریل ٹیکنیکل اینڈ اکنامک کوآپریشن ) کارکردگی کو بہتر انداز میں لیجانے کی ضرورت ہے۔ انہو ںنے ان حالات میں ہند پاک کشیدگی کا تذکرہ کیا ہے جب کہ دونوں ممالک کے درمیان الزام تراشیاں اور سرحد پر کشیدگی کی اطلاعات کو فروغ دیا جا رہاہے اور وزیر اعظم نریندر مودی نے گذشتہ چند ماہ قبل سارک دفتر معتمدی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے خطہ میں پھیلائی جانے والی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے سلسلہ میں مطلع کرتے ہوئے ان سرگرمیوں کو روکنے اور ان کے خاتمہ کیلئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔