ہندسوں کی ہیرا پھیری اور کارپوریٹ اداروں کا فائدہ، مرکز کا بجٹ

   

علامتی پتلہ نذر آتش، نظام آباد میں سی پی ایم، سی آئی ٹی یو اور مختلف تنظیموں کا راستہ روکو احتجاج

نظام آباد ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے منظور کردہ بجٹ کی مخالفت کرتے ہوئے سی پی ایم کی جانب سے مرکزی حکومت کے علامتی پتلہ کو نذرآتش کیا ۔ سی پی ایم ، سی آئی ٹی یو ، زرعی مزدور کے علاوہ دیگر تنظیموں سے وابستہ قائدین نے آج این ٹی آر چوراستہ پر راستہ روکو کیا اور اس موقع پر مخاطب کرتے ہوئے سی پی ایم ضلع سکریٹری پدی وینکٹ راملو نے کہا کہ مرکزی حکومت کا بجٹ ہندوسوں کی ہیرا پھیری اور کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچانے والا بجٹ ہے طمانیت روز گار اسکیم کیلئے گذشتہ بجٹ سے بھی اس سال بجٹ کم ہے اور 78 کروڑ روپئے کی کٹوتی کی گئی اس سے یہ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ مرکزی حکومت کو طمانیت روزگار اسکیم سے کتنی دلچسپی ہے طمانیت روزگار اسکیم کے بجٹ کی کمی سے مزدوروں کو بے حد نقصان پہنچے گا اسی طرح طبی تعلیم کیلئے بھی بجٹ میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ۔ سی آئی ٹی ضلع نائب صدر گوردھن نے اپنی تقریرمیں کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے شہروں میں زندگی بسر کرنے والے غریب افراد کو امکنہ جات کی فراہمی کا اعلان کیا تھا اور اس اسکیم کے تحت 700 میونسپلٹیز کیلئے 780 کروڑ روپئے مختص کئے گئے اور ان روپیوں سے کس طرح غریبوں کے خواب کی تعبیر کی جائے گی ۔ خانگی شعبہ کو دن بہ دن فروغ دیا جارہا ہے اور دیہاتوں کو بلدیہ کے حدود میں تعمیر کرتے ہوئے طمانیت روزگار اسکیم سے محروم کررہے ہیں جس سے غریب مزدوروں کو روزگار سے محروم ہونا پڑرہا ہے ۔ مسٹر گوردھن نے کہا کہ مرکزی حکومت صرف اور صرف کارپوریٹ اداروں کے اشاروں پر کام کررہی ہے آئیدوا کی ضلع صدر سجاتا ، سکریٹری لتا کے علاوہ ضلع کے بائیں بازوں تنظیموں سے وابستہ قائدین نے بڑے پیمانے پر پروگرام میں حصہ لیا اور مرکزی حکومت کے علامتی پتلہ کو نذرآتش کیا ۔