ہندوستان 55 ڈگری درجہ حرارت والے ممالک میں ہوسکتاہے شامل

   

Ferty9 Clinic

لو کے تھپیڑوں میں 30 گنا اضافہ کی پیش قیاسی!
نئی دہلی :ہندوستان کے کئی حصوں میں اس وقت شدید گرمی ہے اور گرم ہوائیں لوگوں کو جھلسا رہی ہیں۔ دہلی سمیت شمالی ہند کے کئی شہروں میں پنکھے اور کولر لوگوں کو گرمی سے راحت پہنچانے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ بغیر اے سی کے سکون میسر نہیں۔ یہ حالات تب ہیں جب درجہ حرارت 40 سے 44 ڈگری تک ہے، لیکن اب ایسے اندیشے ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ 55 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔دراصل جس طرح کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہو رہا ہے، اس سے اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے سالوں میں دہلی سمیت کئی شہروں کا اوسط درجہ حرارت اب کے مقابلے میں 7 سے 8 ڈگری بڑھ سکتا ہے۔ یعنی درجہ حرارت 48 سے 55 ڈگری تک پہنچ جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو ملک میں لو کی شدت بھی بڑھ جائے گی۔ گرم ہواؤں کے تھپیڑے 30 گنا زیادہ شدید ہوں گے اور لوگوں کی زندگی مزید محال ہو جائے گی۔ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن گروپ کے تحت سرکردہ ماہرین ماحولیات کی بین الاقوامی ٹیم کے ذریعہ کیے گئے ریپڈ ایٹریبیوشن اینالیسس کے مطابق دنیا بھر کے ’ہیٹ ویو‘ ہاٹ اسپاٹس میں شمار ہونے والے اس علاقے کی ہائی ولنریبلٹی نے موسم کے اثر کو بڑھا دیا ہے۔ اپریل کے دوران جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا کے کچھ حصوں نے شدید گرمی کی لہر کا سامنا کیا۔ لاؤس میں 42 ڈگری اور تھائی لینڈ میں 45 ڈگری سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیاگیا۔

سرکردہ سائنسدانوں کی اس رپورٹ میں بہت حیران کرنے والی جانکاریاں سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ چند برسوں میں ہیٹ ویو یعنی لو کے تھپیڑے 30 گنا زیادہ ہوں گے۔ وہ دن دور نہیں جب ہندوستان، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ جیسے ممالک میں درجہ حرارت 55 ڈگری سلسیس کے آس پاس ہوگا۔ اس رپورٹ نے 41 ڈگری سلسیس درجہ حرارت کو خطرناک زمرہ میں رکھا ہے، جبکہ 55 ڈگری سلسیس درجہ حرارت کو انتہائی خطرناک زمرہ میں بتایا گیا ہے۔