نئی دہلی۔ ہندوستان اور امریکہ کی فوجوں کے درمیان بیکانیر کی مہاجن فیلڈ فائرنگ رینج میں آج سے مشترکہ جنگی مشقیں ہوئیں جس میں دونوں ملکوں کے فوجی ایک دوسرے کے ساتھ میدان جنگ کی مہارت اور اپنے تجربے کا اشتراک کریں گے ۔جنگی مشقوں کی شروعات افتتاحی تقریب کے ساتھ ہوئی جس میں دونوں ملکوں کے قومی پرچم لہرائے گئے اور دونوں فوجوں نے قومی ترانہ ‘جن گن من’ اور ‘اسٹار اسپینگلڈ بینر’ گایا۔امریکی فوج کا دستہ مشق میں حصہ لینے ہفتے کو سورت گڑھ پہنچا تھا جس میں بریگیڈ ہیڈکوارٹر،2 بٹالین 3 انفینٹری ریجیمنٹ اور اسٹرائکر بریگیڈ کامبیٹ ٹیم کے 270 فوجیوں کا گروپ شامل ہے ۔یہ 14 روزہ دو طرفہ جنگی مشق ریگستانی علاقے کے پس منظر میں دہشت گردی مخالف مہم پر مرکوز رہے گا۔فوج کی 170 انفینٹری بریگیڈ کے کمانڈر برگیڈیئر مکیش بھانوالا نے امریکی دستے کا استقبال کیا۔ انہوں نے مشق کے فوجی مقاصد کو حاصل کرنے دونوں دستوں کے فوجیوں سے تال میل اور امتیازی ہینڈلنگ پر زور دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے خیالات اور تصورات کے کھلے من سے تبادلے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فوجیوں کے درمیان اہم روایات اور تجربات سے سیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔جنگی مشق کے دوران کئی ہوائی پلیٹ فارم جس میں ہندوستانی فوج میں حال ہی میں شامل ہوئے نئے دیسی ایڈوانس لائٹ ہیلی کاپٹر ‘رودر’، ایم آئی -17 ،چینوک ،امریکی فوج کے اسٹرائکر گاڑی اور ہندوستانی فوج کے بی ایم پی -2 میکینائزڈ انفینٹری کمباٹ وہیکل کا بھی استعمال کیا جائے گا۔