ہندوستان اور پولینڈ کے درمیان اسٹراٹیجک پارٹنرشپ قائم

,

   

شہری ترقی ، ٹکنالوجی میں فروغ اور ثقافتی تبادلہ کے فیصلوں کا اعلان

وارسا: ہندوستان اور پولینڈ نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی حیثیت دینے اور اقتصادی تعاون کو وسیع کرنے پر اتفاق کے ساتھ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں کو دہشت گردی سمیت عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کے لئے ان میں جامع اصلاحات کی ضرورت پر زوردیا۔پولینڈ کے دورے پر آئے وزیر اعظم نریندر مودی اور میزبان وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک کے درمیان یہاں وفود کی سطح کی دو طرفہ چوٹی میٹنگ میں یہ فیصلے کیے گئے ۔ دونوں ممالک نے شہری ترقی، تکنیکی اپ گریڈیشن اور ثقافتی مشغولیت کے لیے متعدد فیصلوں کا اعلان کیا۔میٹنگ کے بعد مودی نے اپنے پریس بیان میں وارسا میں گرمجوشی سے مہمان نوازی کے لئے وزیر اعظم ٹسک کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ٹسک طویل عرصے سے ہندوستان کے دوست رہے ہیں اور ہندوستان اور پولینڈ کے درمیان تعلقات کو بڑھانے میں ان کا بہت بڑا تعاون ہے ۔ 45 سال بعد کوئی ہندوستانی وزیر اعظم پولینڈ آیا ہے ۔ انہیں یہ موقع اپنی تیسری مدت کے آغاز میں ملا۔ انہوں نے کہا، “میں پولینڈ کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے 2022 میں یوکرین تنازعہ کے دوران ہندوستانی طلباء کو بچانے میں جو مدد کی ہے ، اسے میں کبھی نہیں بھولوں گا۔”وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال ہم اپنے سفارتی تعلقات کے 70سال کی تکمیل پر جشن منا رہے ہیں۔اس موقع پر ہم نے تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ہندوستان اور پولینڈ کے درمیان تعلقات جمہوریت اور قانون کی حکمرانی جیسی مشترکہ اقدار پر مبنی ہیں۔ آج، ہم نے تعلقات کو ایک نئی سمت دینے کے لیے کئی اقدامات کی نشاندہی کی ہے ۔ دو جمہوری ممالک کی حیثیت سے ہماری پارلیمانوں کے درمیان تبادلہ خیال کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے ۔

مودی اور پولینڈ کے
وزیر اعظم کا باہمی اجلاس
وارسا/نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی اور پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک نے جمعرات کو دو طرفہ بات چیت کی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی تحریک ملے ۔ ٹسک نے پولینڈ کی راجدھانی وارسا میں واقع فیڈرل چانسلری میں مودی کا باقاعدہ استقبال کیا۔ گزشتہ 45 برسوں میں کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا پولینڈ کا یہ پہلا دورہ ہے ۔استقبال کے بعد مودی نے اپنے ہم منصب کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی۔ وزیر اعظم کے ساتھ وزیر خارجہ ایس جے شنکر، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال اور خارجہ سکریٹری وکرم مصری بھی موجود تھے ۔