نئی دہلی، 3 جولائی (یو این آئی) دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کے مقصد سے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے ، ہندوستان اور آسٹریلیا نے زیر سمندر نگرانی سے متعلق ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کا ایک اہم پروجیکٹ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔ آسٹریلیا کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (ڈی آر ڈی او)نیول فزیکل اینڈ اوشینوگرافک لیبارٹری اور آسٹریلیا کے دفاعی سائنس و ٹیکنالوجی گروپ(ڈی ایس ٹی جی) کی قیادت میں مشترکہ تحقیقی اقدام کا مقصد آبدوزوں اور خود مختار زیر آب گاڑیوں کی جلدسراغ لگانے اور پتہ لگانے کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے ۔ یہ پروجیکٹ آسٹریلیا اور ہندوستان کے سمندری شعبوں سے متعلق بیداری میں تعاون کو بڑھانے کا تازہ ترین سنگ میل ہے ۔ آسٹریلیائی حکومت کے محکمۂ دفاع کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے۔ اس معاہدے میں دفاعی سائنس و ٹیکنالوجی گروپ (ڈی ایس ٹی جی)کے انفارمیشن سائنسز ڈویژن اور اس کی ہندوستانی ہم رتبہ ایجنسی، دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (ڈی آر دی او) کی نیول فزیکل اینڈ اوشینوگرافک لیبارٹری کے درمیان تین سالہ مشترکہ تحقیقی منصوبے کا خاکہ پیش کیا گیا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے۔ موجودہ نگرانی کی صلاحیتوں کی اعتباریت، کارکردگی اور انٹرآپریبلٹی کو بہتر بنانے کے لیے اہم ترین تحقیق میں ٹوویڈ ارے ٹارگیٹ موشن انالسس کے استعمال کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔
ڈی ایس ٹی جی کے انفارمیشن سائنسز ڈویژن کے ایک لیڈر امانڈا بیسل نے بتایا کہ ‘‘ٹارگٹ موشن تجزیہ پلیٹ فارم کے حالات سے متعلق آگاہی کو برقرار رکھنے میں ایک اہم عنصر ہے ۔’’
بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘‘ہمیں اختراع، سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہترین ذہنوں سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئی صلاحیتیں پیدا کی جا سکیں، زیادہ رفتار سے اختراعات کی جا سکیں اور اپنی تزویراتی شراکت داری کو مضبوط کیا جا سکے ۔’’
چیف انفارمیشن سائنسز ڈویژن، سنیل رندھاوا کا کہنا ہے کہ ‘‘اس تحقیقی پروگرام کے نتیجے میں ہمارے زیر سمندر جنگی نظام کی نگرانی کی ٹیکنالوجیز کے لیے مستقبل کی الگورتھمک سمتوں کی ترقی کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت موجودہے ۔’’