نئی دہلی، 4 فروری (آئی اے این ایس) ہندوستانی سابقکپتان مہندر سنگھ دھونی نے مینز ٹی20 ورلڈکپ 2026 کے لیے ہندوستانی ٹیم کے امکانات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم کے پاس تجربہ، مہارت اور توازن کا درست امتزاج موجود ہے، جو ایک دباؤ بھرے ٹورنمنٹ میں اچھی کارکردگی کے لیے ضروری ہوتا ہے۔دھونی نے اس بات پر زوردیا کہ ٹیم کی اصل طاقت اس بات پر منحصر ہے کہ کھلاڑی دباؤ والی صورتحال کو کس حد تک بہتر انداز میں سنبھالتے ہیں اور انہیں دیے گئے کردارکتنے واضح ہیں۔کھلاڑی ہمیشہ میچ کے لیے تیار رہتے ہیں، چاہے وہ بیٹنگ ہو یا بولنگ اور یہی بات ہندوستان کو دیگر ٹیموں کے مقابلے میں ایک اہم برتری فراہم کرتی ہے۔ایک تقریب کے دوران دھونی نے کہا،‘ یہ سب سے خطرناک ٹیموں میں سے ایک ہے۔ آپ جانتے ہیں، انہوں نے پہلے ہی بیٹنگ یا بولنگ شروع کردی ہوتی ہے لیکن ایک اچھی ٹیم کے لیے کیا کچھ درکار ہوتا ہے؟ سب کچھ موجود ہے۔ ان کے پاس تجربہ ہے۔ خاص طور پر جب اس فارمیٹ کی بات آتی ہے تو تجربہ بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے دباؤ میں کھیلنے کا تجربہ حاصل کیا ہے۔ جو بھی کھلاڑی ٹیم میں جو بھی کردار اداکررہا ہے، وہ کافی عرصے سے اسی صورتحال سے گزرچکا ہے۔ اگرچہ دھونی پرامید نظر آئے، تاہم انہوں نے شبنم (کہر) کو ایک ایسا عنصر قرار دیا جو وائٹ بال کرکٹ میں بہترین منصوبہ بندی کو بھی متاثرکر سکتی ہے۔ شبنم کھیل کے حالات پر نمایاں اثر ڈالتی ہے اور ٹاس کو انتہائی اہم بنا دیتی ہے، جو بعض اوقات میچ میں غیر منصفانہ برتری کا سبب بن سکتی ہے۔ دھونی نے کہا مجھے کس چیز کی فکر ہوتی ہے؟ ایک بار پھر، مجھے شبنم سے نفرت ہے۔ شبنم بہت سی چیزیں بدل دیتی ہے۔ حتیٰ کہ جب میں کھیل رہا تھا، تو ایک چیز جو واقعی مجھے ڈراتی تھی وہ شبنم تھی۔ جہاں ٹاس بہت اہم ہو جاتا ہے اور یہ سب کچھ۔ اگر ہم بہترین ٹیموں کے ساتھ 10 میچ کھیلیں اور حالات غیر جانبدار رہیں، تو زیادہ تر مواقع پر ہم فاتح بن کر سامنے آئیں گے۔ چنئی سوپرکنگز کے سابق کپتان نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ٹی20 کرکٹ ایک غیر متوقع کھیل ہے، جہاں ایک خراب دن یا حریف ٹیم کے کسی کھلاڑی کی شاندار کارکردگی مکمل نتیجہ بدل سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپ کے کچھ کھلاڑیوں کا دن خراب ہو اور مخالف ٹیم کا کوئی کھلاڑی غیر معمولی دن گزار لے۔ اور یہ ٹی20 کرکٹ میں ہو سکتا ہے۔ تو وہی وقت ہوتا ہے۔ چاہے یہ لیگ مرحلے میں ہو یا ناک آؤٹ مرحلے میں، وہی وقت ہوتا ہے جب بہت زیادہ دعاؤں کی ضرورت پڑتی ہے۔ آپ جانتے ہیں، کوئی بھی زخمی نہ ہو۔ جو بھی کردار دیے گئے ہوں، لوگ ٹیم کے لیے اپنے کردار بخوبی نبھائیں۔ان تمام حالات کے باجود ہندوستان بہتر ٹیم ہے ۔