ہندوستان میں 19.8 فیصد بالغ افراد شوگر کے مریض

   

مردوں کے مقابلہ خواتین زیادہ متاثر، طرز زندگی میں تبدیلی، موٹاپا اور غذاؤں کا منفی اثر
حیدرآباد ۔25 ۔ فروری (سیاست نیوز) یوں تو دنیا بھر میں شوگر کے مریضوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ کا رجحان ہے۔ ایسے میں ہندوستان میں شوگر کے مریضوں کی تعداد پر ماہرین اور ورلڈ ہیلت آرگنائزیشن نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ شوگر کے مریضوں کی تعداد کا پتہ چلانے کیلئے حال ہی میں قومی سطح پر سروے کیا گیا جس کے مطابق 19.8 فیصد بالغ افراد شوگر کے مریض ہیں۔ عمر کے مختلف حصوں میں شوگر کے مرض کا رجحان بھی مختلف ہے۔ 70 تا 74 سال عمر کے تقریباً 23.4 افراد شوگر کے مریض ہیں۔ مردوں کے مقابلہ خواتین میں شوگر کا مرض کسی قدر زیادہ درج کیا گیا ہے ۔ سروے میں بتایا گیا کہ ہندوستان میں 19.6 فیصد مرد شوگر کا شکار ہیں جبکہ خواتین 20.1 فیصد اس مرض میں مبتلا ہیں۔ سروے میں 45 تا 75 سال عمر کے افراد کا احاطہ کیا گیا۔ 45 تا 49 عمر کے افراد میں شوگر کا مرض 14.7 فیصد پایا گیا ہے ۔ 50 تا 54 سال عمر کے افراد میں 18.8 فیصد ، 55 تا 59 عمر کے حصہ میں 20.5 فیصد ، 60 تا 64 سال کی عمر میں 22.4 فیصد ، 65 تا 69 عمر کے افراد میں 22.7 فیصد ، 70 تا 74 عمر کے افراد میں 23.4 فیصد اور 75 سال سے زائد افراد کے عمر میں 21.2 فیصد شوگر کے مریض درج کئے گئے ۔ ورلڈ ہیلت آرگنائزیشن کے مطابق آئندہ 20 برسوں میں ہندوستان میں شوگر کے مریضوں کی تعداد دوگنی ہوجائے گی۔ ملک میں فی الوقت 10 کروڑ سے زائد شوگر کے مریض موجود ہیں۔ ورلڈ ہیلت آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ شوگر کے نتیجہ میں بینائی سے محرومی ، گردوں کا متاثر ہونا ، ہارٹ اٹیک اور دیگر امراض کا اندیشہ لاحق رہتا ہے۔ دو سال قبل ہندوستان میں 74 ملین شوگر کے مریض درج کئے گئے تھے جو 20 تا 79 عمر کی آبادی کا تقریباً 10 فیصد تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ نصف سے زائد شوگر کے مریض ایسے ہیں جو باقاعدگی سے اپنی جانچ نہیں کرواتے جس کے باعث وہ شوگر پر قابو پانے کی حکمت عملی اور علاج سے دور ہیں۔ آئندہ 20 برسوں میں ہندوستان شوگر کے مرض میں دنیا میں سرفہرست ہوجائے گا۔ حالیہ سروے میں بتایا گیا ہے کہ طرز زندگی میں تبدیلی مرض میں اضافہ کی اہم وجہ ہے۔ ہندوستان میں غذاؤں کے استعمال میں دیکھا گیا ہے کہ شوگر اور کاربو ہائیڈریٹ کا عنصر جو شوگر کے مرض کی اہم وجہ ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ غیر صحتمندانہ طرز زندگی اور موٹاپے کے سبب بھی شوگر کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ 2021 میں چین میں شوگر کے مریضوں کی تعداد 140.9 ملین درج کی گئی تھی جبکہ ہندوستان میں 74.2 ملین شوگر کے مریض تھے۔ پاکستان میں 33 ملین ، امریکہ 32.2 ملین اور انڈونیشیا میں 19.5 ملین شوگر کے مریض 2021 تک درج کئے گئے تھے۔ 2011 میں چین میں 8.8 فیصد شوگر کے مریض پائے گئے جو 2021 میں بڑھ کر 14 فیصد ہوچکے ہیں۔ ہندوستان میں 10 برسوں کے دوران شوگر کے مرض میں اضافہ کا رجحان بدستور قائم ہے۔ سروے میں اس بات کا دلچسپ انکشاف ہوا ہے کہ اوسط آمدنی والے افراد میں یہ مرض زیادہ ہے جبکہ زائد آمدنی والا طبقہ دوسرے نمبر پر ہے۔ لو انکم گروپ میں شوگر کا مرض کم دیکھا گیا ہے۔ دیگر ممالک کے مقابلہ ہندوستان میں مرض کی تشخیص کے رجحان میں کمی دیکھی گئی ہے جو شعور بیداری کی کمی کا نتیجہ ہے۔ ہندوستان میں گوا 26.4 فیصد کے ساتھ شوگر کے مریضوں کی تعداد میں سرفہرست ہے۔ پڈوچیری 26.3 اور کیرالا 25.5 فیصد کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ چندی گڑھ میں 20.4 فیصد شوگر کے مریض ہیں جبکہ دہلی میں 17.8 فیصد مریض پائے گئے ۔ ٹاملناڈو میں 14.4 اور مغربی بنگال میں 13.7 فیصد شوگر کے مریض پائے گئے ہیں۔ ورلڈ ہیلت آرگنائزیشن نے مرض پر کنٹرول کیلئے طرز زندگی میں تبدیلی اور ڈاکٹرس کے مشورہ پر سختی سے عمل آوری کی صلاح دی ہے۔1