ہندوستان میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر امریکہ کو تشویش

   

محکمہ خارجہ کی مذہبی آزادی سے متعلق سالانہ رپورٹ میں کئی واقعات کا تذکرہ
واشنگٹن :امریکہ نے ہندوستان سے مذہبی تشدد کی مذمت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہندوستان میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کردیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے مذہبی آزادی سے متعلق سالانہ رپورٹ جاری کردی جس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں مسلم کمیونٹی کے خلاف ریاستی سطح پر اقدامات کیے گئے، مذہبی اقلیتوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے حکام نے تشدد کیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ سری نگر میں محرم کا جلوس نکالنے پر گرفتار یاں کی گئیں۔ا ہندوستان مذہبی اقلیتوں کے خلاف بیان بازی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے۔ واضح رہے کہ امریکی کمیشن نے مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر ہندوستان کو بلیک لسٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہوا ہے۔ ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کے امریکہ کے دورے سے ایک ماہ قبل ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ہندوستان سلسلہ وار مذہبی بنیادوں پر تشدد کی مذمت کرے۔ میڈیاکی رپورٹ کے مطابق محکمہ خارجہ نے مذہبی آزادی سے متعلق ایک سالانہ رپورٹ میں نریندر مودی کے ہندو قوم پرستوں کی قیادت میں مسلمانوں اور عیسائیوں سمیت مذہبی اقلیتوں کے خلاف حملوں کی فہرست فراہم کی ہے۔ایک سینئر امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی روایتی شرط پر رپورٹ کے بارے میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں مذہبی تشدد کے سلسلہ وار واقعات پر افسوس ہے۔عہدیدار نے کہا کہ ’ان خدشات کے حوالے سے ہم حکومت کی تشدد کی مذمت کرنے اور ان افراد کو جوابدہ ٹھہرانے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جو مذہبی اقلیتوں کے خلاف غیر انسانی بیان بازی میں ملوث ہیں‘۔عہدیدار نے کہا کہ ’ہم ان بہادر صحافیوں کے ساتھ بہت قریب سے کام کرتے رہیں گے جو ان میں سے کچھ زیادتیوں کو دستاویزی طور پر درج کرنے کے لیے ہر روز کام کر رہے ہیں‘۔ یہ رپورٹ براہ راست تحقیق کے ساتھ ساتھ میڈیا اور حقوق کیلئے آواز اٹھانے والے گروپوں کی رپورٹس پر مبنی ہے جس میں مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کرنے اور ریاست گجرات میں ہندوؤں کو زخمی کرنے کے الزام میں پولیس کے ذریعے مسلمانوں کو سرِعام کوڑے مارنے کے واقعات پر خدشات کی نشاندہی کرتی ہے۔نئی دہلی طویل عرصے سے مذہبی آزادی پر امریکی تنقید پر ردعمل ظاہر کرتا آیا ہے،۔