ہندوستان نے ماضی میں دو مرتبہ بین الاقوامی دباؤ کو نظر انداز کیا :گہلوت

   

جے پور: 12 مئی (یو این آئی) راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر اشوک گہلوت نے موجودہ حالات میں ہندوستان پر بین الاقوامی دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو مواقع ایسے تھے جن میں ہندوستان نے تمام بین الاقوامی دباؤ کو پیچھے چھوڑ کر قدم اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ 1961 کی بات ہے جب میں چھٹی جماعت میں تھااس وقت ریاست گوا پرتگال کے کنٹرول میں تھی۔ اسے ہندوستان میں ضم کرنے کیلئے پنڈت نہرو کی حکومت نے فوجی آپریشن شروع کیا۔ پرتگال نیٹو کا رکن ملک تھااس لیے پرتگال کے علاقے میں فوجی آپریشن نیٹو کے خلاف مانا جاتا اور ہندوستان پر مغربی ممالک حملہ کرسکتے تھے ۔ امریکی سفیر نے بھی پنڈت نہرو سے ملاقات کی اور ان سے فوجی کارروائی نہ کرنے کی درخواست کی، لیکن پنڈت نہرو کی مضبوط قوت ارادی اور فوج کی بہادری نے پرتگالیوں کو بھگا دیا اور گوا کو ہندوستان کے ساتھ ملا لیا۔ انہوں نے کہا کہ 1974 تک سکم چوگیال خاندان کی ایک آزاد بادشاہت تھی۔ یہاں کی ملکہ امریکی تھی، جس کی وجہ سے سکم کو امریکہ کی حمایت حاصل تھی۔ 1974 میں اندرا گاندھی کی حکومت نے سکم کے ہندوستان کے ساتھ انضمام کی مہم شروع کی۔ پھر امریکہ نے ہندوستان پر دباؤ ڈالا اور کارروائی تک اکا نتباہ دیا لیکن اندرا جی نے ان سب کو نظرانداز کرکے سکم کو ہندوستان کا حصہ بنا یا۔ گہلوت نے کہا کہ ہندوستان ماضی میں کبھی بین الاقوامی دباؤ کے سامنے نہیں جھکا، یہی وجہ ہے کہ ہم اہل وطن یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ امریکی صدر نے جنگ بندی کا اعلان کیسے کردیا۔ یہ تو مکمل طورپر ہماری حکومت کا فیصلہ ہونا چاہیے تھا۔
اندرا جی کے زمانے سے ہی ہندوستان کی پالیسی رہی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے معاملے میں کوئی تیسرا فریق مداخلت نہیں کرے گا۔ حالیہ فوجی آپریشن پر امریکی مداخلت سے پورا ملک فکرمند ہے کہ ایسی کیا مجبوری تھی جس سے مرکزی حکومت نے کسی تیسرے ملک کو مداخلت کی اجازت دی۔