ہندوستان کو طالبان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں

   

اس سے زیادہ بے رحمی ہمارے یہاں موجود ہے: منور رانا
لکھنؤ: افغانستان میں طالبان کا تسلط قائم ہونے کے بعد دنیا کے ساتھ ہندوستان میں بھی مختلف طرح کے بیان دئے جا رہے ہیں۔ مشہور شاعر منور رانا نے طالبان پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بے رحمی اور ظلم افغانستان میں کیا جا رہا ہے، اس سے کہیں زیادہ بے رحمی تو یہاں ہندوستان میں میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے رام راج تھا لیکن اب کام راج ہے، اگر رام سے کام ہے تو ٹھیک، ورنہ کچھ نہیں۔منور رانا نے کہا کہ ہندوستان کو طالبان سے خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ افغانستان کا ہندوستان سے ہزاروں برس کا تعلق رہا ہے اور اس نے ہندوستان کو کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔ یہاں تک کہ جب ملا عمر کی حکومت تھی تو اس وقت انہوں نے بھی ہندوستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا، کیونکہ اس کے باپ۔دادا نے ہندوستان سے ہی کما کر لے گئے تھے۔منور رانا نے کہا کہ جتنی اے کے-47 طالبان کے پاس نہیں ہوں گی اس سے زیادہ تو ہندوستان میں مافیا کے پاس ہیں۔ طالبان کو اسلحہ چھین کر اور ان سے مانگ کر لاتے ہیں لیکن ہمارے یہاں مافیا تو ہتھیار خریدتے ہیں۔تبدیلی مذہب جیسے مسائل ملک کو برباد کر دیتے ہیں۔ دہشت گرد کیا صرف مسلمان ہیں، ہندو بھی ہوتے ہیں! مہاتما گاندھی سیدھے تھے اور ناتھورام گوڈسے طالبانی تھا۔ یوپی میں بھی طالبان جیسا کام کیا جا رہا ہے۔
حال ہی میں سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق نے بھی طالبان جنگجووں پر بیان دیتے ہوئے ان کا موازنہ جنگ آزادی کے مجاہدین سے کیا تھا۔ جس کے بعد ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔