آئی سی ایم آر کے ڈائریکٹر جنرل کا بیان ، مریضوں کی تعداد اور اموات میں مسلسل اضافہ
ہندوستان ، برطانیہ سے آگے ۔ متاثرہ ممالک میں چوتھے نمبر پر
نئی دہلی۔ 11 جون (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کورونا وائرس کی وباء کے پھیلاؤ میں یقینی طور پر کمیونٹی ٹرانسمیشن مرحلے میں نہیں ہے، حکومت نے ایک طرف یہ دعویٰ کیا ہے کہ جبکہ آج ایک ہی دن میں کورونا وائرس کے مریضوں کی ریکارڈ 9,996 تعداد درج کی گئی ہے جبکہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 357 اموات بھی ہوئی ہیں۔ ہندوستان کے پہلے کورونا وائرس سیرو۔ سروے میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن اور کنٹینمنٹ اقدامات کی وجہ سے کورونا وائرس کے انفیکشن کے تیزی سے پھیلنے کو کامیابی سے روکا گیا ہے لیکن آبادی کا ایک بڑا حصہ متاثر ہوسکتا ہے۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے ڈائریکٹر جنرل بلرام بھارگو نے ایک پریس کانفرنس میں یہ انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سروے کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں عام آبادی کے اس سے متاثر ہونے کے علاوہ کنٹینمنٹ زون میں اس کے انفیکشن کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلا حصہ مکمل ہوچکا ہے، اور دوسرا حصہ جاری ہے۔ریاستوں کے محکموں، امراض پر قابو پانے والے قومی مرکز اور عالمی صحت تنظیم کے تعاون سے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ نے یہ سروے کیا ہے۔ ڈاکٹر بھارگو نے بتایا کہ 83 اضلاع میں 26,400 افراد کا اندراج کیا گیا اور 28,595 گھروں کا دورہ کیا گیا۔ 25 اپریل تک کورونا کیسیس کی رپورٹ کی بنیاد پر اضلاع کا انتخاب کیا گیا۔
انہوں نے سروے کے مطابق بتایا کہ لاک ڈاؤن اور کنٹینمنٹ کے باعث کورونا کو تیزی سے پھیلنے سے روکا گیا۔ شہریوں علاقوں میں کورونا کے پھیلنے کا زیادہ خطرہ برقرار ہے۔ شرح اموات 0.08% تک کم ہے۔دیگر امراض کا شکار معمر افراد، حاملہ خواتین اور 10 سال سے کم عمر بچوں کو احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عالمی صحت تنظیم نے کمیونٹی ٹرانسمیشن کی کوئی تعریف بیان نہیں کی ہے۔ ہندوستان جیسے بڑے ملک میں کورونا متاثرین کی تعداد کم ہے۔ چھوٹے اضلاع میں 1% سے بھی کم ہے۔ شہری علاقوں اور کنٹینمنٹ زون میں یہ وباء زیادہ ہے۔ ہندوستان کو کورونا ٹسٹنگ کی حکمت عملی کے علاوہ کورنٹائن اور دیگر اقدامات پر عمل جاری رکھنا چاہئے۔ ایک اطلاع کے مطابق ہندوستان، برطانیہ کو پیچھے چھوڑ کر کورونا انفیکشن میں دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر آگیا ہے۔