مدھیہ پردیش ریاست پسماندگی میں سرفہرست، مردم شماری کے اعداد و شمار میں انکشاف
حیدرآباد۔21جولائی (سیاست نیوز) ہندستان میں 5کروڑ 60لاکھ سے زائد لوگ اپنی پیدائشی ریاست سے ہجرت کرجاتے ہیں اور بغرض معاشی بہتری کے لئے کی جانے والی ہجرت کے رجحان میں اضافہ ہی دیکھا جا رہاہے۔ 2011میں کی گئی مردم شماری کے مطابق ہندستان کی شمالی ریاستو ںمیں معاشی پسماندگی اور بہتر ملازمت و مواقع نہ ہونے کے سبب شہری اپنی ریاستوں سے نقل مکانی کرتے ہوئے دیگر ریاستوں کا رخ کرتے ہیں اور سب سے زیادہ مدھیہ پردیش کے شہری دیگر ریاستوں کا رخ کرنے والوں میں شامل ہیں اس اعتبار سے ریاست مدھیہ پردیش ملک کی سر فہرست ریاست ہے جہاں سے لوگ نقل مکانی کرتے ہوئے دیگر ریاستوں میں زندگی گذارتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اتر پردیش ‘ بہار اور راجستھان بھی ان ریاستو ںمیں شامل ہیں جہاں سے لوگ نقل مکانی کرتے ہوئے تیزی سے ترقی کرنے والی ریاستوں کا رخ کرتے ہیں۔ اسی طرح سے سے زیادہ جن ریاستوں کا رخ کیا جاتا ہے ان ریاستوں میں دہلی ‘ گجرات ‘ اور مہاراشٹر ہے جہاں ان ریاستو ں سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی بڑی تعداد پہنچتی ہے۔ ملک میں بہار ایسی ریاست ہے جہاں سب سے کم دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے نقل مکانی کرتے ہوئے پہنچتے ہیں اور ان میں بڑی تعداد جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی ہے جو بہار کا رخ کرتے ہیں۔ہریانہ کے علاقہ فریدآباد اور گڑگاؤں میں بھی نقل مکانی کرتے ہوئے پہنچنے والوں کی قابل لحاظ آبادی ہوتی ہے جن کی تعداد 30 لاکھ 70ہزار سے تجاوز کرچکی ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔جنوبی ہند کی ریاستوں میں تمل ناڈو اور آندھرا پردیش سے دیگر ریاستوں کو نقل مکانی کرنے والی کی تعداد آسام اور بنگال جیسی ریاستو ں سے زیادہ ریکارڈ کی گئی تھی ۔بتایاجاتا ہے کہ یہ رجحان اب بھی برقرار ہے اور جنوبی ہند کی ریاستوں میں متحدہ آندھرا پردیش میں ریکارڈ کئے گئے نقل مکانی کی اعداد و شمار میں کوئی نمایاں تبدیلی کے آثار نہیں ہیں اور کہا جار ہاہے کہ ان ریاستوں میں ملک کی دیگر ریاستوں سے نقل مکانی کرتے ہوئے پہنچنے والوں اتر کھنڈ ‘ چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ ایسی ریاستیں ہیں جہاں سے نقل مکانی کرنے والوں سے زیادہ ان ریاستوں میں نقل مکانی کرتے ہوئے پہنچنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔کیرالہ میں موجود نقل مکانی کرنے والی آبادی میں 5فیصد کا تعلق بنگال سے ہے جبکہ راجستھان سے نقل مکانی کرنے والوں کی ترجیحات گجرات ‘ مدھیہ پردیش اور ہریانہ ہوتی ہیں۔شمالی ہند سے جنوبی ہند کی ریاستوں تمل ناڈو ‘ آندھراپردیش اور کرناٹک کو منتقل ہونے والوں کی تعداد 5فیصد سے زیادہ نہیں ہے جبکہ جنوبی ہند کی ریاستوں سے تعلق رکھنے والوں کی جنوبی ہند کی ریاستوں میں نقل مکانی کا فیصد زیادہ ہے۔2011میں کئی گئی مردم شماری کے اعداد و شمار میں ریکارڈ کئے گئے نقل مکانی کے رجحانات پر یہ رپورٹ تیار کی گئی اور کہا جا رہاہے کہ حالیہ عرصہ میں نقل مکانی میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے اور عوام ان ریاستو ںکا رخ کر رہے ہیں جہاں ترقیاتی پراجکٹس جاری ہیں۔