ہندوستان کیساتھ مذاکرات کے امکانات ’بہت محدود‘: بلاول

,

   

ایسے ملک کیساتھ بات چیت بہت مشکل جو جموں و کشمیر میں اپنی فرقہ پرستانہ پالیسیاں نافذ کررہا ہے

اسلام آباد : پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کشمیر میں حکومت ہند کے اقدامات پر نکتہ چینی کی۔ بلاول کا کہنا تھا کہ انہیں ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کے امکانات ‘بہت محدود’ دکھائی دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے دورے پر آئے پاکستان کے نئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک ایسے ملک کے ساتھ معاملہ کرنا بہت مشکل ہے جو”بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی فرقہ پرستانہ پالیسیاں نافذ کر رہا ہے۔”انہوں نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا”ہم سب اس بات سے بہت اچھی طرح آگاہ ہیں کہ اقتصادی سرگرمیاں، مذاکرات، سفارت کاری ہی وہ راستے اور طریقے ہیں جو ملکوں کے مابین آپسی اختلافات کو حل کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔لیکن میں نے یہ بات نوٹ کی ہے، اور بالخصوص اس وقت جو جارحانہ اور مخالفانہ رویہ ہے، اس نے عملی طور پر ایسا کرنے کے مواقع کو بہت محدود کردیا ہے۔”خیال رہے کہ بھارت میں نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت نے سن 2019میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کردیا تھا۔بلاول بھٹو زرداری نے جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی جانب سے نئی انتخابی حدبندیوں کی بھی نکتہ چینی کی۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اس کا اصل مقصد کشمیر میں مسلم ووٹ کی اہمیت کو ختم کرنا ہے۔گوکہ وزیر اعظم مودی نے اقتدار سنبھالنے کے ایک برس بعد 2015میں پاکستان کااچانک دورہ کیا تھا لیکن حالیہ برسوں کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات کافی کشیدہ رہے ہیں۔قبل ازیں بلاول بھٹو زرداری نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ اس عالمی ادارے کی جانب سے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جانے کے سبب کشمیری اپنی سرزمین اور اپنے گھر میں اقلیت میں تبدیل ہورہے ہیں۔جو کہ سلامتی کونسل اور اس کی قراردادوں اور جنیوا کنونش کی توہین ہے، عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطے میں اس ادارے کی جانب سے اقدامات نہ کرنا اس کی خلاف ورزی ہے۔بلاول بھٹو زرداری فوڈ سکیورٹی کانفرنس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچے تھے لیکن اس دوران انہوں نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے بھی ملاقات کی۔بلاول اور بلنکن کی ملاقات کے بعد امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بتایا کہ دونوں رہنماوں نے ایک ”مضبوط اور خوشحال باہمی تعلقات کی مشترکہ خواہش کا اظہار کیا۔”نیڈ پرائس نے مزید کہا کہ”دونوں رہنماوں نے علاقائی امن، انسداد دہشت گردی، افغانستان میں استحکام، یوکرین کے لیے امداد اور جمہوری اصولوں کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔”بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے پڑوسی بھارت کے امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات پر کوئی تشویش نہیں ہے۔ہم امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات پر کسی طرح کے عدم تحفظ کا شکار نہیں ہیں اور ہمیں یہ یقین ہے کہ پاکستان اور ہندوستان دونوں کے لیے ہی یہ دنیا بہت بڑی ہے۔