ہندوستان ۔ یو اے ای باہمی تعلقات نقطہ عروج پر

   

سیاست فیچر
ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کس قدر خوشگوار ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چند دن قبل متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زائد النہیان نے ہندوستان کا دورہ کرتے ہوئے ہندوستان کے ساتھ کئی ایک شعبوں میں باہمی تعاون و اشتراک کے معاہدے طے کئے۔ صدر امارات نے صرف تین گھنٹوں کا دورہ کیا اور اس دورہ کے بارے میں مودی جی نے جو ٹوئٹ کیا اس میں پرزور انداز میں کہاکہ میں نے اپنے بھائی شیخ محمد بن زائد النہیان کا استقبال کیا۔ اس انتہائی مختصر ترین دورہ میں نریندر مودی اور شیخ محمد بن زائد النہیان نے 2032ء تک باہمی تجارت 200 ارب ڈالرس تک پہنچانے کا اعلان کیا۔ فی الوقت ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کی باہمی تجارت 100 ارب ڈالرس سے زائد تک پہنچ گئی۔ اس دورہ کی سب سے بڑی کامیابی رہی وہ ہے متحدہ عرب امارات کی سرکاری آئیل فرم ADNOC ہندوستان کو ایل این جی سپلائی کرے گا اور اس ضمن میں جو معاہدہ طے پایا ہے اس کے تحت یو اے ای ہندوستان کو 10 سال کے لئے 3 ارب ڈالر مالیتی ایل این جی سپلائی کرے گا اور اس سپلائی کا آغاز 2028ء سے ہوگا۔ ADNOC ہندوستان کی سرکاری ملکیت کی حامل ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن کو قدرتی گیس کی فراہمی عمل میں لائے گی۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جن کے بارے میں ہمارے وزیراعظم نریندر مودی بار بار ایک بہترین دوست ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، کس طرح ہندوستانی مصنوعات پر ٹیرف پر ٹیرف عائد کئے جارہے ہیں۔ اب تو انھوں نے ہندوستان، چین، برازیل جیسے ملکوں پر 500 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ بہرحال ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف عائد کئے جانے کے بعد سے ہندوستان اپنی تجارت کا رُخ مختلف سمتوں میں کرنے اور دوسرے ملکوں کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی کوششوں میں مصروف ہوگیا ہے۔ 3 ارب ڈالرس مالیتی ایل این جی معاہدہ کے ساتھ ہندوستان، یو اے ای سے قدرتی گیس خریدنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے، باالفاظ دیگر سب سے بڑا صارف بن گیا ہے۔ اڈناک کے مطابق 2029ء تک ہندوستان اڈناک کی جملہ ایل این جی میں سے 20 فیصد گیس خریدنے والا ملک بن جائے گا۔ جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں لکھا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ہندوستانی ہر شعبہ حیات میں چھائے ہوئے ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں جو بیرونی باشندے مقیم ہیں اور چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے عہدوں پر فائز ہیں، تجارتی شعبوں میں تو ان کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ان میں جنوبی ایشیاء کا 68.3 فیصد حصہ ہے جس میں ہندوستانی 37.96 فیصد، پاکستانی 16.72 فیصد، بنگلہ دیشی 7.38 اور دیگر 6.3 فیصد شامل ہیں۔ یو اے ای میں 6.1 فیصد فلپائنی، ایرانی 4.72 فیصد، مصری 4.33 فیصد اور دوسرے ملکوں کے 2.16 فیصد باشندے شامل ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ متحدہ عرب امارات میں 2020ء کے اعداد و شمار کے مطابق 986900 غیر مسلم یاہندو خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یو اے ای کے صدر صاحب السمو الشیخ محمد بن زائد النہیان نے 19 جنوری کو صرف 3 گھنٹوں کا دورہ کیا جس میں دونوں ملکوں کے درمیان CEPA (Comprehensive Economic Partnership Agreement طے پایا۔ ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جو معاہدات طے پائے ان میں 10 برسوں کے لئے یو اے ای سے ہندوستان کو ایل این جی کی سربراہی ایک کلیدی معاہدہ رہا۔ دونوں ملکوں کے درمیان ایک نئی اسٹراٹیجک ڈیفنس پارٹنرشپ کو حتمی قطعیت دی گئی۔ ہندوستان اور یو اے ای نے اہم بنیادی سہولتوں میں سرمایہ کاری کرنے سے بھی اتفاق کیا۔ متحدہ عرب امارات گجرات کے دھولیرا اسپیشل انوسٹمنٹ ریجن کو فروغ دے رہا ہے۔ مودی حکومت نے اسے تمام معاملوں یا معاہدات کی ماں قرار دیا۔ اس بارے میں نریندر مودی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس معاہدہ سے مینوفیکچرنگ سپورٹ سرویس کے شعبہ میں زبردست پیشرفت ہوگی۔ یوروپی یونین کے ساتھ ہندوستان کا جو Free Trade Agreement طے پایا، اس سے ہندوستان اور یوروپی یونین کے درمیان نہ صرف تجارت کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ دونوں طرف کے عوام کو بھی زبردست فائدہ ہوگا۔ خاص کر پارچہ جات، قیمتی پتھروں، ہیرے جواہرات، زیورات اور لیدر کی مصنوعات کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں واقع ہوں گی۔ آپ کو بتادیں کہ ہندوستان اور یوروپی یونین کے درمیان سال 2024-25ء میں تجارت 136 ارب ڈالرس کی رہی جبکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک طرح سے زبردست جھٹکہ لگا کیوں کہ ٹرمپ ہندوستان، چین یا برازیل کو ہی زیادہ سے زیادہ TARIFFS عائد کرنے کی دھمکیاں نہیں دے رہے ہیں بلکہ خود اپنے حلیف ملکوں کینیڈا اور آسٹریلیا وغیرہ کو بھی دھمکیوں پر دھمکیاں دیئے جارہے ہیں۔ اب تو انھوں نے چین سے برطانیہ اور کینیڈا کی قربت کو دیکھتے ہوئے دونوں ملکوں کو انتباہ دیا ہے۔ ایسے میں وزیراعظم نریندر مودی کو اچھی طرح سوچ لینا چاہئے کہ ہندوستان کوئی معمولی اور چھوٹا ملک نہیں ہے، دنیا کا سب سے بڑا کنزیومر مارکٹ ہے اور ساری دنیا ہندوستان میں سرمایہ مشغول کرنے کی خواہاں ہے، خاص طور پر عرب ممالک ہندوستان اور ہندوستانیوں کی قدر کرتے ہیں لیکن افسوس مودی حکومت میں مسلمانوں کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک روا رکھا جارہا ہے۔