ہندوستانی شہریوں کو ایران چھوڑدینے ایمبیسی کی ہدایت

,

   

Ferty9 Clinic

ایران میں سلامتی کیلئے بگڑتی صورتحال کے پیش نظر اڈوائزری، مشکل میں پھنسے شہریوں کی مدد کے اقدامات

تہران؍ نئی دہلی۔14۔جنوری (ایجنسیز)ایران میں بگڑتی ہوئی سلامتی کی صورتحال کے پیش نظر تہران میں قائم ہندوستانی سفارتخانے نے وہاں مقیم تمام ہندوستانی شہریوں کیلئے ایک نہایت اہم اڈوائزری جاری کی ہے۔ سفارتخانے نے ہندوستانیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ دستیاب تمام ممکنہ ذرائع استعمال کرتے ہوئے جلد از جلد ایران چھوڑ دیں۔سفارتخانے کے مطابق یہ ہدایت ایران میں موجود تمام ہندوستانی شہریوں کیلئے ہے، جن میں طلبہ، زائرین، تاجر اور سیاح شامل ہیں۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ شہری ہوائی یا دیگر محفوظ ذرائع سے ایران سے روانگی کو ترجیح دیں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔سلامتی کے خدشات کے پیش نظر ہندوستانی شہریوں کو سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے تمام سفری اور شناختی دستاویزات، جیسے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ، ہر وقت اپنے پاس رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں جانے سے اجتناب کریں جہاں احتجاج یا بدامنی کی اطلاعات ہیں، اور سفارتخانے کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں۔ہندوستانی سفارتخانے نے مشکل میں پھنسے شہریوں کی فوری مدد کیلئے متعدد ہنگامی فون نمبرز جاری کیے ہیں: 98 +9128109115، 98 +9128109109، +912810910298 ، 98 +9932179359اس کے علاوہ مدد کیلئے ای میل اڈریس جاری کیا گیا ہے [email protected] سفارتخانے نے ایران میں موجود تمام ہندوستانی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ جو افراد اب تک رجسٹر نہیں ہوئے، وہ فوری طور پر اپنی رجسٹریشن مکمل کریں۔ سفارتخانے کے مطابق اگر انٹرنیٹ کی بندش کے باعث آن لائن رجسٹریشن ممکن نہ ہو تو ہندوستان میں موجود رشتہ دار درج ذیل سرکاری لنک کے ذریعے رجسٹریشن کا عمل مکمل کر سکتے ہیں: https://www.meaers.com/request/homeاس سے قبل امریکہ نے بھی اپنے شہریوں کیلئے اسی نوعیت کی سخت ایڈوائزری جاری کی تھی، جس میں انہیں فوری طور پر ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ ایڈوائزری میں کہا گیا تھا کہ ایران میں مقیم شہری کسی بھی دستیاب اور محفوظ ذریعے سے ملک سے نکل جائیں، اور اگر فضائی سفر ممکن نہ ہو تو زمینی راستے سے پڑوسی ممالک آرمینیا یا ترکی جانے پر غور کریں۔
شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ کجریوال اور سنجے سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی ڈگری کے حوالے سے یونیورسٹی کے بارے میں طنزیہ اور تضحیک آمیز بیانات دیے، جس سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔