مستقبل میں کسی بھی کورونا وائرس لہر سے نمٹنے میں مدد گار
حیدرآباد۔6۔مارچ۔(سیاست نیوز) ملک بھر کورونا وائرس کی تین لہروں نے 90 فیصد آبادی میں قدرتی قوت مدافعت میں اضافہ کیا ہے اور آئندہ کورونا وائرس کی کسی بھی لہر یا قسم سے نمٹنے کیلئے ہندستانی شہریوں میں پیدا ہونے والی یہ مدافعت انتہائی کارآمد ثابت ہوگی۔ملک بھر میں کورونا وائرس کی اقسام اور دیگر امور پر تحقیق کر رہے Sutra ماڈل کے ماہرین نے اپنی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ ہندستان کی 90 فیصد آبادی میں اب قدرتی قوت مدافعت پائی جانی لگی ہے ۔آئی آئی ٹی کانپور اور آئی آئی ٹی حیدرآباد کے محققین جو اس تحقیقاتی امر سے وابستہ ہیں نے بتایا کہ کورونا وائرس کی دو اقسام ڈیلٹا اور اومی کرون کے سبب بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں اور متاثرہونے کے بعد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں جو لوگ کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد صحت یاب ہوئے ہیں ان تمام کی قدرتی قوت مدافعت میں اضافہ ہوا ہے اور ان کی قدرتی قوت مدافعت کے سبب مستقبل میں اگر کوئی نئی قسم بھی آتی ہے تو ایسی صورت میں ہندستان کی 90 فیصد آبادی اس کا مقابلہ کرنے کی متحمل ہوگی۔سوترا ماڈل کی جانب سے کورونا وائرس کے آغاز کے ساتھ ہی شروع کی جانے والی تحقیق اور اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہوئے کی جانے والی بیشتر پیش قیاسی درست ثابت ہورہی ہیں اور اب جو پیش قیاسی کی گئی ہے اگر وہ درست ثابت ہوتی ہے تو مستقبل میں کورونا وائرس کی نئی اقسام شہریوں کو متاثر نہیں کرپائیں گی اور اگر متاثر بھی کرتی ہیں تو ایسی صورت میں انہیں کسی سنگین صورتحال کا سامنا نہیں رہے گا۔ڈاکٹر ودیا ساگر محقق سوترا ماڈل نے بتایا کہ کورونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران جو صورتحال تھی اس سے تجربہ حاصل کرنے کے بعد دوسری لہر میں کافی بہتر انتظامات کئے گئے تھے لیکن دوسری لہر کے دوران ڈیلٹا نامی قسم کے سبب کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا لیکن تیسری لہر کے دوران کورونا وائرس کی جو قسم منظر عام پر آئی وہ اومی کرون تھی اور اومی کرون کے متاثرین میں کوئی سنگین علامات نہیں پائے جا رہے تھے لیکن متاثرین کی تعداد کافی زیادہ ہونے کے سبب ہندستان کی مجموعی آبادی کے 90 فیصد حصہ میں اب قدرتی قوت مدافعت موجود ہے اور انہیں کسی بھی طرح کے سنگین خطرات کا سامنا نہیں ہے جو کہ ہندستانی آبادی کے لئے مثبت پہلو تصورکیا جا رہاہے۔م