رام پنیانی
ہندوستانی تہذیب و ثقافت عالمی سطح پر ایک منفرد شناخت اور پہچان رکھتی ہے ۔ ساری دنیا ہندوستان کے نظریہ کثرت میں وحدت سے کافی متاثر ہے اور اسے بڑی حیرانگی سے بلکہ حسرت سے دیکھتی ہے ۔ عالمی برادری یقیناً اس بات کو لے کر حیرتان ہوگی کہ ہندوستان ایک عظیم ملک ہے ۔ ایک ایسا ملک جس کے دامن میں بے شمار مذاہب کے ماننے والے کئی ایک تہذیبوں کی نمائندگی کرنے والے اور ہزاروں کی تعداد میں زبانیں اور بولیاں بولنے والے رہتے بستے ہیں ۔ اس کے باوجود یہ ملک دنیا کو عدم تشدد اور پرامن بقائے باہم کا درس دیتا ہے لیکن پچھلے چند دہوں اور بالخصوص 2014 سے ہندوستان اور ہندوستانیوں کی تہذیب و ثقافت کو لے کر ایک نئی بحث چھڑگئی ہے ۔ ایک طرف خود ساختہ قوم پرست ہیں تو دوسری طرف حقیقی قوم پرست اور محب وطن ہندوستانی ہیں ۔ اول الذکر ہندوستان کو مذہبی بنیاد پر تقسیم کرنے میں یقین رکھنا ہے اور آخر الذکر مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا کا حامی ہے ، وہ ہندوستان اور ہندوستانیت Indianness پر یقین رکھتا ہے اور اس کا ایقان ہے کہ ہندوستان ایک سیکولر ایک جمہوری ملک ہے ، ایک ایسا ملک جس کا دستور بلا لحاظ مذہب و ملت رنگ و نسل ذات پات اور علاقہ تمام شہریوں کو مساویانہ حقوق دیتا ہے لیکن اب حال یہ ہوگیا ہے کہ یہ سوال بہت زیادہ گردش کرنے لگا ہے کہ آخر ہندوستانی تہذیب و ثقافت کیا ہے ؟ کیا ہندو ثقافت ہے یا تمام ہندوستانیوں کی ایک ملی جلی اور مشترکہ ثقافت ہے ؟ اس قسم کے بہت سے سوالات ہیں جو آج پوچھے جارہے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں لکھا ہے کہ فی الوقت ہندوستان میں خود کو قوم پرست کہنے والوں اور خود کو حقیقی قوم پرست و محب وطن قرار دینے والوں کے درمیان مقابلہ جاری ہے ۔ اب تو دائیں بازو کی جماعتیں اور تنظیمیں ان کے حامی ہندوتوا کو ہندوستان کی ثقافت قرار دے رہے ہیں ۔ یہ وہ تنظیمیں جماعتیں اور عناصر ہیں جو ہندو راشٹر کی حمایت کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ ہندوتوا ہی ہندوستان کی تہذیب و ثقافت ہے اور مسلم حملہ آوروں نے اس ثقافت پر یلغار کی اور اپنے حملوں کا نشانہ بنایا جبکہ ہندو ثقافت نے ہی مسلم حملہ آوروں کی اس یلغار کا مقابلہ کیا جبکہ ہندو مذہب ترک کر کے دامن اسلام میں پنا لینے کے باوجود بعض لوگ اپنے ہندو ماضی سے خود کو الگ نہیں کرسکے ، یہ بات دوبارہ ذہن میں اس وقت آئی جب کولکتہ میں حال ہی میں ہندوتوا سے ہندو مت کو تحفظ کی ضرورت ہے ، کے زیر عنوان ایک مباحثہ کا انعقاد عمل میں آیا ۔ اس مباحثہ میں جے سائی دیپک بھی موجود تھے ۔ انہوں نے یہ دلیل دی کہ گنگا جمنی تہذیب کا تصور آزادی کے بعد تخلیق کیا گیا اور اس تصور کو مقدس تصور کا درجہ دینا حقیقت میں ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور ان کے تیار کردہ مارکسی۔ ہنرووئین مورخین کی جانب سے تاریخ کو مسخ کرنے کا فارمولہ ہے ۔ سائی دیپک مزید کہتے ہیں کہ گنگا جمنی تہذیب کا رجحان 1916 سے 1929 کے درمیان بڑی تیزی کے ساتھ ابھرا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آحر گنگا جمنی تہذیب کیا ہے ؟ یہ دراصل ایک طویل عرصہ باالفاظ دیگر 1000 سال میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین پروان چڑھنے والی مشترکہ ثقافت ہے یا اس کے مترادف ہے ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد کے ساتھ ہی ساتویں صدی میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے باہمی تعلقات کا آغاز ہوا اور یہ ہندوستان کے قرون وسطی کے دور میں کافی فروغ پایا ۔ ایک بات ضرور ہے کہ ہندوستان پر جن مسلم حکمرانوں اور ان کی سلطنتوں خاص کر سلطنت مغلیہ و مغل حکمرانوں کا مقصد کبھی بھی مقامی ثقافت کو مٹانا اور اسے تباہ و برباد کرنا نہیں تھا ۔ اگر دیکھا جائے تو بنیادی طور پر وہ دولت اور اقتدار کیلئے ہندوستان آئے تھے اور خود ہندو حکمرانوں نے اپنے مخالف راجاؤں پر برتری حاصل کرنے یا ان سے انتقام لینے کی خاطر انہیں مدعو کیا تھا ، تاریخ کی اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلم حکمرانوں نے اس ملک کے ایک بڑے حصہ پر حکومت کی اور ان کی حکومتوں میں یا ان کے دور اقتدار میں ہندوؤں و مسلمانوں کی کئی ایک ہم آہنگ روایات نے جنم لیا اور ان روایات میں سے بیشتر روایات آج بھی ہمارے ملک کے طول و عرض میں موجود ہیں۔ حالانکہ ہندو قوم پرستوں کی جانب سے ہندوؤں اور مسلمانوں کی ان ملی جلی روایتوں کو ختم کرنے وکالت کی جارہی ہے، دباؤ ڈالا جارہا ہے ۔ اگر آپ گنگا جمنی تہذیب کی بات کرتے ہیں تو یہ جان لیں کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی ملی جلی تہذیب ، تہذیبی روایات کا آغاز شمالی ہند سے ہوا چونکہ گنگا جمنا کے علاقوں میں یہ ملی جلی تہذیب پروان چڑھی اس لئے اسے گنگا جمنی تہذیب کا نام دیا گیا ۔ خود انگریزی سامراج کے تسلط کے خلاف اور ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی دلانے کی تحریک میں قربانیاں دینے والے مجاہدین آزادی نے بھی اس بات پر زور دیا ہے اور جن لوگوں نے تحریک آزادی سے خود کو الگ تھلگ رکھا تھا یعنی ہندو قوم پرست اور مسلم قوم پرست وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو پسند نہیں کرتے تھے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ہمارے ملک میں ہندو مسلم باہمی تال میل تمام شعبہ حیات میں اچھی طرح دکھائی دیتا ہے اور آج بھی ملک بھر میں ہندو مسلم اتحاد کے خوبصورت نظارے دیکھنے میں آتے ہیں ۔ ریسرچ اسکالر بی این پانڈے اس کی بہت خوبصورت وضاحت کرتے ہوئے رقمطراز ہیں ، وہ اسلام اور ہندوازم جو ابتداء میں ا یک دوسرے کے مخالف نظر آتے تھے، آخر کار ان میں اتحاد ہوا اور دونوں مذاہب نے ایک دوسرے کی گہرائی کو متاثر کیا اور دونوں کے امتزاج سے بھکتی اور تصوف کا محبت بھرا ماحول اور عقیدت وجود میں آئی جس نے ہمارے عظیم ملک میں مختلف مذاہب اور قرضوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں کروڑوں لوگوں کے دل جیت لئے ۔ اسلامی تصوف اور ہندو مت کی بھکتی کی لہریں مل کر ایک طاقتور اور بااثر دھارا میں تبدیل ہوگئی جس نے ویران میدانوں کو زر خیز زمین بنادیا ملک کی صورت گیری کی اور فنون لطیفہ ادب مصوری (پینٹنگ) ، موسیقی شاعری اور محبت پر مبنی مذہبی روایت کی وہ یادگار تخلیق کی جو عہد وسطی کی ہندوستانی تاریخ کا بلا شبہ ورثہ ہیں، مسلم حکمرانوں ، اسلام اور مقامی تہذیب و ثقافت کے باہمی اثر سے زندگی کے تمام شعبوں میں ایک مشترکہ اور ہم آہنگ تہذیب وجود میں آئی جس سے فی الوقت فرقہ پرست پریشان ہیں۔